| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فاقے کا چلّہ پورا ہوگیا
امریکی شعبدہ باز ڈیوڈ بلین اتوار کی شب جب لندن میں ٹاور بریج پر ایک کرین سے لٹکے صندوق میں بغیر کچھ کھائے چوالیس دن گزارنے کے بعد نیچے آئے تو وہاں موجود دس ہزار کے مجمع نے تالیاں بجاکر اور نعرے لگا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ وہ اس عرصہ میں صرف پانی پیتے رہے۔ جب وہ صندوق سے باہر آئے تو طویل فاقے کی وجہ سے وہ شدید نکاہت محسوس کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا بہت اہم دن تھا اور اس کے بعد وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ اس کے بعد انہیں فوراً ایک اسپتال میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں انہیں خوراک دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر خوراک میں ذرا سی بھی بے احتیاطی کی گئی تو بلین کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ بلین کا کہنا تھا کہ آخری دنوں میں ان کے دل کی ڈھڑکن تیز ہو جاتی تھی، نظر دھندلی ہوگئی تھی اور سانس پھولنے لگا تھا۔
بلین کے اس کارنامے کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں پانی میں کلوکوز ملاکر دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ اس عرصہ میں انہیں خالص پانی ہی دیا گیا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان کے پٹھوں کو پھر سے توانا ہونے کے لئے چھ ماہ درکار ہوں گے۔ سکائی ون ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ ان چوالیس دنوں میں اندازاً ڈھائی لاکھ افراد بلین کا یہ شعبدہ دیکھنے آئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||