BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 September, 2003, 23:46 GMT 03:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرتب یا اذیت پسندی؟

ڈیوڈ بلین
ڈیوڈ بلین چوالیس روز کے فاقہ پر

امریکی شعبدہ باز ڈیوڈ بلین ان دنوں لندن کے مشہور دریاِ ٹیمز پر معلق سات فٹ لمبے پلاسٹک کے شفاف ڈبے میں بند اپنے چوالیس روز پورے ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس دوران وہ فاقہ کشی کریں گے اور ان کا گزارہ محض پانی پر ہوگا۔

جمعہ بارہ ستمبر کو انہیں دریا پر لٹکے ایک ہفتہ پورا ہوجائے گا۔ کئی لوگ انہیں دیکھنے دریا کے کنارے ہر روز جمع ہوتے ہیں۔ مگر ایسے کم ہی ہیں جو ان کی اس شعبدے بازی سے متاثر ہوں۔

بی بی سی کے ایک سروے کے مطابق صرف چودہ فیصد لوگ ڈیوڈ کے اس کرتب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ چھیاسی فیصد کے نزدیک یہ ایک مضحکہ خیز اور غیر سنجیدہ حرکت ہے۔

زیادہ تر تماش بین خاص کر نوجوان ایسے ہیں جو صرف ڈیوڈ کا مذاق اڑانے دریاِٹیمز پر آرہے ہیں۔ کئی ان کے ڈبے کی طرف کھانے پینے کی اشیا یا کبھی کبھار گیند بھی اچھال دیتے ہیں۔

کئی کا کہنا ہے کہ یہ محض شہرت حاصل کرنے کا ہتھکنڈہ ہے۔

اس کرتب سے قبل ایک ماہرِ خوراک نے ڈیوڈ بلین کو متنبہ کیا تھا کہ چوالیس روز خوراک سے پرہیز موت کا باعث ہوسکتا ہے۔ اور اگر وہ اپنے اس کرتب میں کامیاب ہو بھی گئے اور چوالیس روز تک زندہ سلامت رہ گئے تب بھی ان کی جسمانی صحت بری طرح متاثر ہوگی۔

ڈیوڈ بلین کی صحت تو متاثر ہو یا نہ ہو، اس کرتب کے دیکھنے اور سننے والوں کی ذہنی صحت ضرور اس کرتب سے متاثر ہورہی ہے۔

ڈیوڈ کو ٹی وی پر دکھانے کے لئے چوبیس گھنٹے ان کی فلم بنتی رہتی ہے تاکہ برطانیہ میں گھر بیٹھے یہ دیکھا جا سکے کہ اب ان کی کیا حالت ہے۔

اگر انہیں وقتاً فوقتاً دیکھا جائے تو وہ زیادہ تر اپنا سر ہاتھوں میں جکڑے نظر آتے ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے اس شعبدے بازی کی اجازت کیوں دی ہے؟ وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں ہر چیز کا ایک قاعدہ، نظام اور قانون ہے۔ کیا اس سے کرتب بازی کے شوقین افراد کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو اذیت میں ڈال کر دنیا بھر کی توجہ حاصل کریں؟

بلاشبہ ڈیوڈ اذیت پسند ہیں۔ اس فاقہ کشی سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے شرکاء کے سامنے چاقو سے اپنے کان کو کاٹ ڈالا تھا۔

ماضی میں ایک کرتب کے بعد جس کے دوران وہ تین دن اور تین راتیں برف کی سلوں میں رہے تھے، انہیں ہسپتال لے جانا پڑا تھا۔

اگر سوچا جائے تو دنیا میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جنہیں کھانے کو کچھ میسر نہیں ہے، دنیا بھر کی جیلیں قیدیوں سے بھری پڑی ہیں جو آزاد فضا میں سانس لینے کو ترستے ہیں، ہسپتالوں میں بیمار افراد کی بھر مار ہے، کئی بیمار افراد ایسے ہیں جو اپنے علاج کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔

ان تلخ حقائق کی موجودگی میں کوئی اپنے لئے ایسے حالات پیدا کرکے دنیا بھر کی توجھ حاصل کرنا چاہے، تو بلاشبہ یہ انسانیت کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد