BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 March, 2006, 20:04 GMT 01:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بغداد : امریکی فوج سے تعاون معطل
مسجد المصطفی پر حملے میں بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے
امریکی فوج نے حملہ کی جگہ پر تبدیلیاں کرنے کا الزام لگایا ہے
بغداد میں مسجد المصطفیٰ پر کارروائی کے بعد امریکی فوج کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بغداد کے گورنر نے امریکی فوج سے تعاون معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی فوج نے اس متنازعہ فوجی کارروائی پر اپنے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ کارروائی کے دوران جس عمارت پر حملہ کیا گیا اس میں مزاحمت کار چھپے ہوئے تھے۔

امریکی فوجی کے نائب کمانڈر پیٹر چیریلی نے کہا ہے کہ حملہ کی جگہ پر پراپگنڈہ کرنے کے لیے تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

عراقی وزارتِ داخلہ نے اس واقع پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ مسجد میں داخل ہو کر قتل کرنا بلاجواز اور کھلی اشتعال انگیزی ہے۔‘

عراق میں حکمران شیعہ اتحاد کے کچھ اراکین نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ امریکیوں اوران کی قیادت میں عراقی فوجیوں نے مسجد میں گھس کر لوگ کے ہاتھ پشت پر باندھ کر انہیں قتل کیا ہے۔ امریکی حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

اس سے قبل وزیر اعظم ابراھیم جعفری کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کواس واقع پر شدید تشویش ہے اور انہوں نے امریکی فوجی کمانڈر جنرل جارج کیسی کو فون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کیسی نے اس واقع کی پوری تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

بغداد کے گورنر حسین التحان نے کہا ہے وہ امریکی فوجی حکام سے ہر قسم کا تعاون معطل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس واقع کی پوری تحقیقات نہیں کرائی جاتیں وہ امریکی فوج سے تعاون بحال نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس انکوائری میں امریکیوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

حسین التحان نے بی بی سی کو بتایا کہ مسجد پر کارروائی ایک برہنہ جارحیت ہے اور اس کے بہت سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

اس واقع میں امریکی حکام کے مطابق سولہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکیوں کا کہنا ہے کہ کارروائی عراقی خصوصی دستوں نے کی جبکہ امریکی فوج صرف ان کی معاونت کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی چھاپہ مار اور عراقی فوج کے انسداد دہشت گردی کے دستے اس علاقے میں مزاحمت کاروں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی لے رہے تھے جب ان پر مزاحمت کاروں کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے مزاحمت کار تھے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے اس کارروائی میں بڑی مقداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں امریکیوں کے مطابق وزارتِ صحت کے ایک اہلکار کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

تاہم عراق وزیر داخلہ بائن جبر نے کہا کہ ہلاک ہونے والے نمازی تھے۔

اس کارروائی کے بعد بنائی جانے والی ٹی وی فلموں سے بھی امریکی دعووں کی تردید ہوتی ہے کہ امریکی فوج مسجد میں داخل نہیں ہوئی اور اس مسجد کو نقصان نہیں پہنچا۔

جس کمرے میں لوگوں کو قتل کیا گیا وہ نماز ادا کرنے کا کمرہ نظر آتا ہے۔ اس کمرے کے فرش پر قالیں بچھا ہوا تھا اور دیواروں پر آیات لکھی ہوئی تھیں۔

اس ویڈیو ٹیپ میں لاشیں دکھائی گئیں اور فرش پر پانچ عشاریہ پانچ چھ بور کی گولیوں کو خول بکھرے دکھائے گئے۔ اس بور کی گولیاں صرف امریکی فوج استعمال کرتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد