BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 January, 2006, 02:05 GMT 07:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش کے نامزد جج سوالوں کی زد میں

امریکی سینٹ کی جوڈیشری کمیٹی ، سپریم کورٹ کے لیے صدر جارج بش کے نئے نامزد کردہ جج سیموئیل الیٹو کی توثیق کی سماعت کر رہی ہے۔

جج الیٹو ایسے حالات میں امریکی سپریم کورٹ کے لیے نامزد کیے گئے ہیں جب ایک طرف تو امریکی انتظامیہ پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور شخصی حقوق کی پامالی کے الزامات لگ رہے ہیں اور دوسری طرف نو رکنی امریکی سپریم کورٹ دائیں اور بائیں بازو کے خیالات رکھنے والے ججوں کے درمیان تقریبًا برابر بٹا ہوا ہے۔ یعنی جج الیٹو کا ووٹ کئی اہم مقدمات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

ایسے میں ان کے ذاتی اور سیاسی خیالات میں نہ صرف امریکیوں بلکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

ڈیموکریٹک سینیٹر جوزف بائیڈن نے سماعت کے دوران 1985 میں جج الیٹو کی لکھی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے امریکی صدر اور انتظامیہ کے اختیارات اور ان کی حدود سے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا ’لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ انتظامیہ ، حکومت کی باقی دونوں شاخوں یعنی عدلیہ اور قانون ساز اداروں سے بڑھ کر ہے؟‘

یہ سوال خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ جج الیٹو، جسٹس سینڈرا او کونر کی جگہ عہدہ سنبھالیں گے جنہوں نے حال ہی میں صدر بش کی انتظامیہ کے خلاف ایک مقدمے میں فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ تھا ’عالمِ جنگ کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی صدر کو شہریوں کے حقوق پامال کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔‘

انسانی حقوق کی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ جج الیٹو اس خیال کی حمایت نہیں کرتے اور انتظامیہ کو زیادہ اختیارات دینے کے حق میں ہیں۔

جج الیٹو نے براہ راست اس قسم کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے کہا کہ کوئی شخص چاہے کتنا ہی بڑا عہدہ کیوں نہ رکھتا ہو، قانون سے بالاتر نہیں۔

’میری رائے میں اگر عدلیہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طرح نبھائے تو معاشرے میں انصاف کا بول بالا ہوگا۔ ہمارے آئین میں حکومت کے ہر شعبے کے ذمہ خاص کام ہیں اور اگر ہر شخص دوسروں کے کام میں دخل اندازی کرنے لگے تو یہ پورا نظام خراب ہو جائے گا۔‘

امریکہ میں شخصی آزادی کی حامی تنظیم امیریکن سول لبرٹیز یونین نے اپنی ویب سائٹ پر جج الیٹو کی نامزدگی کی مخالفت کی ہے۔

تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھونی رومیرو کہتے ہیں۔ ’ایسے وقت میں جب کہ ہمارے صدر نے امریکیوں کی خفیہ نگرانی کی اجازت دی اور دہشت گردی کے خدشے میں لوگوں کو نامعلوم وقت کے لیے جیل میں ڈال رکھا ہے، امریکہ کو ایک ایسے سپریم کورٹ جسٹس کی ضرورت ہے جو ہماری بیش قیمت شخصی آزادیوں کی حفاظت کر سکے۔‘

امیگریشن کے وکیل اور وکلاء کی تنظیم امیریکن امیگریشن لایرز ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن ڈیوڈ لیوپولڈ کہتے ہیں کہ جج الیٹو نے ماضی میں امیگریشن سے متعلق جو فیصلے دیے ہیں وہ ان سے خوش نہیں۔

خاص طور پر ایسے مقدمات میں جن میں کوئی شخص اپنی جان بچانے اور ظلم و ستم سے بچنے کے لیے امریکہ میں پناہ لینے کا خواہش مند ہو۔ مسٹر لیوپولڈ کے مطابق جج الیٹو ایسے لوگوں کے لیے بہت سخت معیار کے حامی ہیں۔

انہوں نے خاص طور پر ایک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گنی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس لیے امریکہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی کہ محض فوج میں بھرتی ہونے سے انکار پر اس کی بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور اس کا گھر جلا دیا گیا۔ باقی تمام ججوں نے اس شخص کے حق میں فیصلہ دیا لیکن جج الیٹو نے مخالف رائے ظاہر کی۔

لیکن جج الیٹو کے حامی کہتے ہیں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ خود جج الیٹو کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سپریم کورٹ کے جسٹس کا عہدہ مل گیا تو وہ ہر مقدمے کو کھلے دماغ سے سنیں گے۔

اسی بارے میں
امریکی چیف جسٹس کا حلف
30 September, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد