امریکی چیف جسٹس کا حلف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جان رابرٹس نے وایٹ ہاوس میں ہونے والی ایک تقریب میں امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر بش کی ذاتی پسند پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کے لیے نامزد ہونے کے بعد جان رابرٹس نے امریکی سینیٹ میں بائیس کے مقابلے میں اٹھہتر ووٹوں سے اپنی نامزدگی پر تائید حاصل کی۔ عیسائیوں کے کیتھولک فرقے سے تعلق رکھنے اور قدامت پسند خیالات کے مالک پچاس سالہ جان رابرٹس نے رپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیوں کے ارکان کے ووٹ حاصل کیے۔ صدر بش نے سینیٹ سے ان کی نامزدگی کی تائید پر کہا کہ کانگرس نے ایک زیرک اور رحم دل شخص کی تقرری کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام امریکی شہری یقین رکھیں کہ سترہویں چیف جسٹس عدالتی اختیارات کے استعمال میں دانشمند، عدلیہ کی آزادی کے دفاع میں سخت گیر اور آئین کے محافظ ہوں گے۔ جان رابرٹس نے اپنے مختصر خطاب میں صدر اور سینیٹ کے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور امریکی آئین سے وفاداری اور اس کے دفاع کا حلف اٹھایا۔ رابرٹس کو گزشتہ ماہ ایک طویل عرصے تک چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہنے والے ویلیم رینکیوسٹ کے انتقال کے بعد چیف جسٹس نامزد کیا گیا تھا۔ ان کے حلف اٹھانے کے بعد اب تمام تر توجہ اب جسٹس ساندرا ڈے او کانر کی جگہ ہونے والی نامزدگی پر لگ جائے گی۔ ساندرا ڈے اوکانر اب رٹائیر ہونے والی ہیں۔ صدر بش نے ان کی جگہ نامزدگی کرنی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی ڈے اوکانر کی جگہ ہونے والی نامزدگی پر پوری مزاحمت کریں گے کیونکہ اس سے سپریم کورٹ میں توازن پر فرق پڑے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||