امریکہ۔بھارت فوجی مشقوں کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیں بازو کے محاذ کی سخت مخالفت کے باوجود حکومت نے امریکی فضائیہ کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے مطابق فوجی مشقیں کرنا کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکہ اور ہندوستان کے فوجیوں کی مشترکہ مشقیں آئندہ ہفتے سے مغربی بنگال میں شروع ہونگی۔ حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’گزشتہ روز سے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ بات چيت ہورہی ہے اور سی پی آئی ایم کی مرکزی قیادت سے بھی دِلی میں بات ہوئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کا حق ہے لیکن لیکن انہوں نے ریاستی حکومت سے اپیل کیا ہے کہ مشقوں کے لیے وہ سیکیورٹی کا انتظام کرے تاکہ مشقیں ہو سکیں‘۔ مسٹر مکھرجی کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ مشقیں گزشتہ کئی برس سے ہورہی ہیں اور یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔
ادھر مخالف اتحاد کے ہزاروں کارکنوں نے مغربی بنگال کے تینوں ہوائی اڈوں پر اسکے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جماعتیں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے دفاعی تعاون کے خلاف ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی(مارکس) کے ایک رہنما انل بسواس نے کہا ہے کہ ’ہم کلائی کنڈا کا گھیراؤ کرینگے جہاں مشقیں ہونا طے ہیں۔ جس نوعیت سے بھارت اور امریکہ کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ ہورہا ہے ہم اس کے مخالف ہیں اور اسکے خلاف ہم پر زور آواز اٹھائیں گے‘۔ لیکن مسٹر بسواس نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج پر امن ہوگا۔ مغربی بنگال میں کلائی کنڈا کے فوجی ہوائی اڈے پر آئندہ سات نومبر سے امریکی اور ہندوستانی فضائیہ کی ایک ساتھ مشقیں شروع ہونگی۔ بنگال میں کمیونسٹ پارٹیوں کا غلبہ ہے اور وہ روایتی طورپر امریکہ کے بارے میں حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتی رہتی ہیں۔ امریکی افسران نے بتایا ہے کہ امریکی فوجی جاپان میں مساوا فوجی ایئر پورٹ سے ایف سولہ لڑاکا طیاروں سے پرواز کرینگے۔ مشقوں میں ہندوستان مغربی و روسی ساخت کے طیارے استعمال کریگا۔ یہ مشترکہ مشقیں دو ہفتے تک جاری رہینگی۔ | اسی بارے میں بھارت پر سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ28 June, 2005 | انڈیا سفارتی آداب اور آرمیٹیج کا مقام15 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||