’میں امام بننا چاہتی ہوں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی ورلڈ سروس کی ’میرا چیلنج‘ سیریز کے تحت دنیا بھر سے ان افراد کی زندگیوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے جنہوں نے روایات، عقائد یا طاقت کو چیلنج کیا ہو۔ سلمٰی قریشی بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جو ہیں تو کمپیوٹر پروگرامر مگر ان کا عزم ہے کہ وہ برطانیہ کی پہلی خاتون امام بنیں۔ اپنی عمر کی دیگر خواتین کی مانند سلمٰی کو بھی شاپنگ، ورزش اور یوگا پسند ہے۔ تاہم ان کا ذاتی مشن ہے کہ وہ ایک مذہبی رہنما بنیں۔ خواتین اماموں کا معاملہ مسلم دنیا کو درپیش جدید چیلنجوں میں سے ایک ہے۔ سلمٰی کا کہنا ہے کہ’ میں بہت حد تک مذہبی ذہنیت رکھتی ہوں لیکن اس کے ساتھ ہی میں ایک اپنی ذات میں ایک لبرل خاتون ہوں۔ جو میں اس وقت کر رہی ہوں یہ کچھ نیا ہے۔ آج تک کوئی عورت امام نہیں بنی اور امامت کا فریضہ مرد ہی انجام دیتے آئے ہیں۔ مردوں نے کبھی عورت کو بطور امام تصور نہیں کیا اور جو میں کرنے جا رہی ہوں وہ بہت چیلنجنگ ہے‘۔ سلمٰی نے سات برس کی عمر میں اپنے والد سے قرآن کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ جب میں چھوٹی تھی تو مجھے مذہب اور ثقافت کا فرق نہیں معلوم تھا اور میرا خیال تھا کہ اسلام خواتین پر بہت سی پابندیاں لگاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ مجھے بعد میں اس بات کا پتہ چلا کہ یہ سب ثقافت کا نتیجہ ہے اور مذہب کسی بھی عورت کو کچھ کرنے سے نہیں روکتا۔ عورتیں مذہب سے اختلاف کیے بنا جو چاہے کر سکتی ہیں‘۔ سلمٰی قریشی 18 برس سے کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں جس کے بعد انہوں نے ایلنگ کے مسلم کالج میں اسلامیات میں ماسٹرز ڈگری کرنے کے لیے داخلہ لیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ جب میں یہ کورس کر رہی تھی تو وہاں امام بننے کا ایک ڈپلومہ کورس تھا اور میں نے سوچا یہ بہت دلچسپ ہے۔ میں نے اس سلسے میں معلومات حاصل کیں اور پوچھا کہ کیا خواتین اس کورس میں داخلہ لے سکتی ہیں اور ان کا جوب مثبت تھا۔ میں بہت پر جوش ہو گئی کیونکہ یہ پہلی مرتبہ میں نے سنا تھا کہ ایک عورت بھی اس قسم کی تعلیم حاصل کرسکتی ہے‘۔ امامت کے اس کورس میں طلباء کو مسجد کا انتظام چلانے اور خطبہ دینے کی تعلیم دی جاتی ہے اور انہیں ان حکومتی اداروں کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے جن سے وہ امام بننے کے بعد رابطے میں رہیں گے۔ سلمٰی کے بارے میں برطانیہ کے مسلم معاشرے کے مبصر نوید اختر کا کہنا ہے کہ ’وہ ایسی خاتون ہیں جن میں اسلام کے لیے صحیح جذبہ موجود ہے‘۔ نوید اختر کا کہنا ہے کہ’مسلم آبادی کیلیے خواتین کا بطور امام تربیت حاصل کرنا اور یہ خواہش کرنا کہ وہ ایک مسجد میں کلیدی عہدے پر فائز ہو ایک دھچکے کا باعث ہو گا اور وہ اسے اپنی طاقت کے محور کیلیے خطرہ تصور کریں گے‘۔ سلمٰی قریشی کا بھی کہنا ہے کہ ان کے بھائی اور خاوند نے انہیں کہا کہ ’ ایک عورت کیسے امام بن سکتی ہے‘۔ سلمٰی قریشی کا کہنا ہے کہ انہیں امام بننے کا خیال اس لیے بھی آیا کیونکہ خواتین کو رہنمائی کی ضرورت ہے اور امام صرف مرد ہیں۔ سلمٰی کا کہنا ہے کہ انہیں اب تک تو منفی رویوں کا سامنا نہیں کر نا پڑا بلکہ انہیں حمایت اور حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ بہت سے والدین میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں مجھ پر فخر ہے اور میں ان کی بیٹیوں کے لیے رہنمائی کا باعث ہوں‘۔ ان کے مطابق انہیں اس وقت انہیں حیرت ہوتی ہے جب نوجوان مسلم لڑکیاں ان کے پاس آتی ہیں اور کہتی ہیں کہ وہ ’تالاب میں پہلا پتھر پھینکنے والی خاتون‘ ہیں اور وہ’مردوں اور عورتوں کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے کی کوشش کر رہی ہیں‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||