لاٹری کی فاتح روپوش ہوگئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستتر ملین پاؤنڈ کا جیک پاٹ جیتنے والی آئرش خاتون یورو لاٹری کی تاریخ کے اس سب سے بڑے انعام میں لوگوں کی دلچسپی کے سبب روپوش ہوگئی ہیں۔ لمرک کاؤنٹی سے تعلق رکھنے والی پچاس سالہ ڈولورس میکنمارا نے جمعہ کو یہ انعام جیتا تھا۔ انعام کی یہ رقم نو’ رول اوور‘ کے بعد جمع کی گئی تھی۔ ڈولورس میکنمارا کی دوست گیرلڈائن کا کہنا تھا کہ’ وہ ایک بہترین انسان ہیں اور وہ اس انعام کی صحیح حقدار ہیں‘۔ ڈولورس میکنمارا کو جمعہ کی رات ایک شراب خانے میں یہ پتہ چلا تھا کہ انہوں نے جیک پاٹ جیت لیا ہے۔ تاہم وہ اگلے ہفتے تک انعام کی رقم حاصل نہیں کر پائیں گی۔ نیشنل لاٹری کی ترجمان پاؤلا مکوائی نے کہا کہ’ گو کہ سب کچھ اخبار میں چھپ چکا ہے لیکن پھر بھی ضابطے کی کارروائی میں وقت لگتا ہے‘۔ یورو ملین لاٹری کے ٹکٹ برطانیہ، آسٹریا، بلجیم، پرتگال، فرانس، لکسمبرگ اور سپین میں فروخت کیے جاتے ہیں۔ اس جیک پاٹ سے قبل اس لاٹری میں سب سے بڑا انعام بہتر ملین ڈالر کا نکلا تھا جبکہ دنیا کا سب سے بڑا جیک پاٹ امریکہ کے اینڈریو وٹکر نے حاصل کیا تھا جب انہوں نے 2002 میں ایک سو ستانوے ملین پونڈ کا جیک پاٹ جیتا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||