جی ایٹ کے خلاف مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پولیس اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کے بعد جی ایٹ اجلاس کے خلاف ایک متنازعہ مظاہرہ ہوا ہے۔ قبل ازیں پر تشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے مفادِ عامہ میں اس مظاہرہ پر پابندی لگا دی تھی جو بعد میں اٹھا لی گئی۔ ’ہمیں امن چاہیے‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے چار ہزار کے قریب مظاہرین اس حفاظتی دیوار کی جانب بڑھ گئے جو کہ اس ہوٹل کے گرد قائم کی گئی تھی جہاں جی۔ ایٹ اجلاس ہو رہا ہے۔ آٹھ عالمی طاقتوں کے اس اجلاس میں رہنما تجارت، امداد اور ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرنے والے ہیں۔ اس مظاہرے کے منتظمین نے جو کہ ایک پر امن مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں، پولیس سے کہا تھا کہ آیا وہ انہیں آچتراردار میں مظاہرہ کرنے دیں یا پھر ایڈنبرا میں ایک عظیم مظاہرہ کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس مظاہرے کے آغاز میں اس وقت دو گھنٹے دیر ہوئی جب اجلاس کے مقام کو جانے والی سڑکوں پر ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ساٹھ کے قریب مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نےگاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے، پولیس پر حملہ کیا اور سڑک پر جھاڑیاں رکھ کر ٹریفک معطل کر دی۔ جی ایٹ اجلاس کے مقام پر قریباً چار ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ برطانوی تاریخ کا سب سے بڑا سکیورٹی آپریشن ہے۔ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس اور امریکہ کے رہنما اس اجلاس میں شرکت کے لیے سکاٹ لینڈ پہنچ رہے ہیں۔ اس اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان اور چین، برازیل، بھارت، نایجیریا اور جنوبی افریقہ کے رہنما بھی شرکت کریں گے۔ بہت سے مظاہرین اور مبصرین کے لیے جی ایٹ اجلاس موجودہ عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ ہے۔ جی ایٹ ممالک پر یہ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ افریقی ممالک کے قرضوں کی معافی، عالمی تجارت کے مسائل اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مسائل پر یکساں مؤقف اپنائیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||