BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 May, 2005, 06:18 GMT 11:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگلیہار ڈیم پر سوئس ثالث مقرر

بگلیہار ڈیم
بگلیہار ڈیم کے علاوہ کشن گنگا ڈیم پر بھی تنازعہ ہے
ورلڈ بنک نے بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کے تحت دریائے چناب پر بنائے جانے والے بگلیہار ڈیم پر ثالثی کے لیے سوئزرلینڈ کے ماہر پروفیسر رےمنڈ لافیت کا تقرر کردیا ہے۔

پاکستان میں سندھ طاس معاہدہ کے تحت مقرر کیے گئے کمشنر جماعت علی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس تقرری کی تصدیق کی اور کہا کہ دونوں ملکوں نے سوئس ماہر کے نام پر اتفاق کیا ہے۔

لافیت سول انجینئر ہیں اور لوسان میں سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پروفیسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔

جماعت علی شاہ نے کہا کہ سوئس ماہر اپنا کام کتنی مدت میں پورا کریں گے اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے لیکن وہ دونوں فریقین کے موقف کی سماعت کریں گے۔

ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے پروفییسر لافیت کو غیرجانبدار ماہر کے طور پر اہل مانا ہے اور وہ جن نتائج پر پہنچیں گے ان کو وقت آنے پر ظاہر کیاجائے گا۔

ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ اس سال کے شروع میں پاکستان نے اس سے بگلیہار منصوبہ پر اختلافات کے سلسلے میں ایک غیرجانبدار ماہر مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔ سندھ طاس معاہدہ کی شرائط کے تحت ورلڈ بنک کا کہنا ہے کہ غیرجانبدار ماہر کی سفارشات حتمی ہوں گی اور فریقین کے لیے انہیں ماننا لازمی ہوگا۔

سندھ طاس معاہدہ کے مطابق تین دریا راوی، بیاس اور ستلج بھارت کو جبکہ دریائے سندھ، چناب اور جہلم پاکستان کو دیے گئے تھے۔ پاکستان میں بہنے والے یہ دریا بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے پاکستان کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد