BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 March, 2005, 04:21 GMT 09:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متنازعہ قانون دارالعوام سے منظور
دارالعوام سے منظور ہونے کے بعد یہ مسودہ قانون دارالامراء میں پیش کیا جائے گا
دارالعوام سے منظور ہونے کے بعد یہ مسودہ قانون دارالامراء میں پیش کیا جائے گا
برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا دارالعوام نے دہشت گردی کے شبہ میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید رکھنے کے ایک متنازعہ مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔

حالیہ دور کا یہ متنازعہ ترین مجوزہ قانون برطانوی دارالعوم میں معمولی سی اکثریت سے منظور کیا گیا اور اس قانون کی وجہ سے وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جماعت لیبر پارٹی کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران سب سے بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔

جب یہ قانون ایوان زیریں میں بحث کے لیے پیش کیا گیا تو حزب اختلاف کے ارکان کے علاوہ حزب اقتدار لیبر پارٹی کے ارکان کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس قانون کی مخالفت کی اور اس کو برطانیہ میں شہریوں کی روایتی آزادی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔

اس مخالفت کے پیش نظر وزیر داخلہ چارلس کلارک نے کچھ رعایتوں کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان قانونی اقدامات کا مقصد ملک کی سیکیورٹی کو مستحکم کرنا ہے خصوصاً جب مشتبہ افراد کے خلاف شواہد کو کھلی عدالت میں پیش کرنا ممکن نہ ہو۔

یہ قانون اب ایوان بالا یا دارالامراء میں پیش کیا جائے گا جہاں عین ممکن ہے کہ اس قانون کو مسترد کر دیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد