متنازعہ قانون دارالعوام سے منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یا دارالعوام نے دہشت گردی کے شبہ میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے قید رکھنے کے ایک متنازعہ مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔ حالیہ دور کا یہ متنازعہ ترین مجوزہ قانون برطانوی دارالعوم میں معمولی سی اکثریت سے منظور کیا گیا اور اس قانون کی وجہ سے وزیراعظم ٹونی بلیئر کی جماعت لیبر پارٹی کو گزشتہ آٹھ سال کے دوران سب سے بڑی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ جب یہ قانون ایوان زیریں میں بحث کے لیے پیش کیا گیا تو حزب اختلاف کے ارکان کے علاوہ حزب اقتدار لیبر پارٹی کے ارکان کی بھی ایک بڑی تعداد نے اس قانون کی مخالفت کی اور اس کو برطانیہ میں شہریوں کی روایتی آزادی کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔ اس مخالفت کے پیش نظر وزیر داخلہ چارلس کلارک نے کچھ رعایتوں کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان قانونی اقدامات کا مقصد ملک کی سیکیورٹی کو مستحکم کرنا ہے خصوصاً جب مشتبہ افراد کے خلاف شواہد کو کھلی عدالت میں پیش کرنا ممکن نہ ہو۔ یہ قانون اب ایوان بالا یا دارالامراء میں پیش کیا جائے گا جہاں عین ممکن ہے کہ اس قانون کو مسترد کر دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||