عراق: دو غیرملکی صحافی لاپتہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیائی وزارتِ خارجہ کے مطابق انڈونیشیا کے دو صحافی اپنے ڈرائیور کے ہمراہ عراقی شہر رمادی سے لاپتہ ہو گئے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان مارٹی نٹالگاوا نے بتایا کہ ’ ان سے ہمارا رابطہ منقطع ہو چکا ہے اور ہم ان کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں اغوا کرنے کے بعد یرغمالی بنا لیا گیا ہے‘۔ انڈونیشیا کے میٹرو ٹی وی سے تعلق رکھنے والے ان صحافیوں نے منگل سے اپنے چینل سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ یہ دونوں صحافی جن میں ایک مرد اور ایک عورت شامل ہیں کرائے کی ایک گاڑی پر اردن سے عراق کا سفر کر رہے تھے۔ کار کے مالک نے حکام کو بتایا ہے کہ ان تینوں افراد کو ایک مسلح گروہ نے رمادی کے نزدیک روکا۔ بغداد سے ایک سو دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع رمادی شدت پسندوں اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپوں کا مرکز رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس دو انڈونیشیائی خواتین کو اغوا کرنے کے بعد اس وقت رہا کر دیا گیا تھا جب اغواکنندگان کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ صحافیوں کی گمشدگی مغوی اطالوی صحافی کی ویڈیو ٹیپ سامنے آنے کے دو دن بعد عمل میں آئی ہے۔ گیلیانا سگرینا کو فروری کے اوائل میں بغداد سے اغوا کیا گیا تھا۔ اس ویڈیو ٹیپ میں سگرینا نے امریکی فوج کے انخلاء اور اپنے بچاؤ کی اپیل کی تھی۔ ایک شدت پسندگروہ اسلامک جہاد آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اس نے سگرینا کواغوا کیا ہے اور وہ عراق سے اطالوی افواج کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ تیرہ غیر ملکی اس وقت مختلف عراقی گروہوں کی قید میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||