’عراق میں القاعدہ جہاد کر رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں ایک سو چوبیس دن تک قید رہنے والے فرانسیسی صحافی جارج میلبروناٹ نے کہا ہے کہ عراق میں جاری مزاحمت کا تعلق عراقی نیشنلزم سے زیادہ القاعدہ سے ہے جو امریکہ کے حساب چکانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراق سے رہائی پانے کے بعد جارج میلبروناٹ نے لی فیگارو میں اپنے ایک تحریر میں لکھا ہے کہ انہوں نے اپنی قید کے دوران یہ محسوس کیا ہے کہ عراق میں مزاحمت کرنے والے عراقی قومیت سے زیادہ جہاد کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ فرانسیسی صحافی نے کہا ہے کہ ان کو شمالی عراق میں اسلامک آرمی کے سیل میں رکھا گیا تھا جہاں انہوں نے اسامہ بن لادن کا اثر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت کار عراقی ایجنڈے سے زیادہ عالمگیر اسلامی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ فرانسیسی صحافی کے اندازے کے مطابق عراق میں جاری یہ مزاحمت کم از کم ایک عشرے تک جاری رہ سکتی ہے کیونکہ وہاں برسرپیکار لوگ عالمی اسلامی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ فرانسیسی صحافی نے عراق جانے والے صحافیوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر ان کو وہاں ضرور جانا ہے تو دھیان سے جائیں۔’ہمارے اغوا کاروں نے ہمیں بتایا ہے کہ عراق واپس مت آنا۔ یہاں جنگ ہو رہی ہے اور ہمیں آپ کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم امریکہ کے ساتھ اپنا حساب برابر کرنا چاہتے ہیں‘۔ فرانسیسی صحافی اکتالیس سالہ جارج میلبروناٹ کو، جن کا تعلق اخبار’ لی فگارو‘ سے ہے، اگست کو نجف کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||