BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات
دبئی
دبئی میں دنیا کی چند جدید ترین اور انوکھی عمارات کی تعمیر جاری ہے
دبئی پہنچ کر کوئی بھی دو قسم کی آوازوں سے نہیں بچ سکتا۔ ایک آذان کی آواز جو کہ شہر کی مساجد سے دن میں پانچ بار بلند ہوتی ہے اور دوسری آواز اس مشینری کی جو کہ چوبیس گھنٹے جاری رہنے والے تعمیراتی کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔

دبئی میں دنیا کی چند جدید ترین اور انوکھی عمارات کی تعمیر جاری ہے۔ ان عمارتوں میں دنیا کی بلند ترین عمارت اور دنیا کا پہلا سیون سٹار ہوٹل بھی شامل ہے اور جہاں بات انوکھے پن کی ہے تو صحرا کے بیچ سکیئنگ کا ایک میدان بنانے کا منصوبہ بھی زیِرغور ہے۔

لیکن یہ تعمیراتی کام سرانجام دینے والے افراد کی زندگی کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ تعمیراتی عملے میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق جنوبی ایشیائی علاقوں سے ہے اور وہ چوبیس گھنٹے جاری رہنے والے اس تعمیراتی کام میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ کہانی ہے ایک خود کشی کی۔ پچیس سالہ ارمگم وینکاٹیش دبئی میں مزدوری کرتا تھا اور اسی دبئی کے ایک مزدور کیمپ میں اس نے اپنے آپ کو پھانسی لگا لی۔

اس کے ساتھ رہنے والا اودیش ابھی تک اس واقعہ کو قبول نہیں کر پایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ’ میں ساڑھے سات بجے کے قریب کام سے گھر واپس آیا تو کمرہ بند تھا۔ جب میں نے کمرہ کھولا تو تاریکی کے سبب وینکاٹش کو آواز دی لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ تب مجھے اس کی لٹکتی ہوئی لاش دکھائی دی۔ اس کے گھٹنے زمین کو چھو رہے تھے اور اس کی گردن ٹوٹی ہوئی تھی‘۔

وینکاٹش کی دبئی میں آمد انہی ہزاروں مزدوروں کی مانند تھی جنہیں روزگار دلانے والی کمپنیاں جنوبی ایشیائی ممالک سے بھرتی کر کے لاتی ہیں۔

اس کی ضرورایتِ زندگی اور کام کا انحصار اسی کمپنی پر تھا جو اسے دبئی لائی تھی اور وہ اسی کمپنی کے ایک ایسے مزدور کیمپ میں رہائش پذیرتھا جہاں نو کمروں میں پچاسی افراد کو رکھا گیا تھا۔

اس کیمپ کے ہر کمرے میں آٹھ افراد رہائش پذیر تھے جبکہ پچیس افراد کے لیے ایک باتھ روم تھا۔

دبئی
ایک کمرے میں آٹھ افراد رہائش پذیر ہیں

ان دگرگوں حالات میں وینکاٹش اور اس جیسے ہزاروں لوگوں کی دبئی آمد کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے پیسہ۔

ایک تعمیراتی مزدور بھارت کی نسبت دبئی میں دس گنا زیادہ رقم کما لیتا ہے اور نہ صرف آبائی ممالک میں ان کے گھر والوں کے حالاتِ زندگی بہتر ہو جاتے ہیں بلکہ یہ اضافی رقم قرض کی ادائیگی میں بھی کام آتی ہے۔

وینکاٹش نے دبئی پہنچنے کے لیے بہت زیادہ شرحِ سود پر قرض لیا تھا۔ وہ چھ افراد پر مشتمل کنبے کا واحد کفیل تھا۔

اس نے خود کشی سے قبل اپنے خط میں وینکاٹش نے لکھا ہے کہ وہ خود اپنی جان لے رہے ہیں کیونکہ وہ قرض کی ادائیگی میں ناکام ہو چکے ہیں۔

دبئی میں کاروبار تو پھل پھول رہا ہے لیکن اودیش جیسے مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں اگست سے تنخواہ نہیں ملی اور ان کے بہت سے ساتھی بنا کاغذات کے کام کر رہے ہیں۔

مزدور
مزدوروں کا کہنا ہے کہ انہیں اگست سے تنخواہ نہیں ملی

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ کمپنیاں مزدوروں کے پاسپورٹ لے لیتی ہیں تاکہ وہ گھر واپس نہ جا سکیں۔

وینکاٹش اور اودیش جیسے مزدوروں کو دبئی لانے والی کمپنی کے مینیجر ریجس جون سے جب یہ پوچھا گیا کہ مزدوروں کی تنخواہیں کیوں ادا نہیں کی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’ ہماری کمپنی گزشتہ ڈیڑھ برس سے اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ہم ان لوگوں کو تنخواہ ادا کریں گے بلکہ ہم نے دو دن قبل ہی انہیں دو ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا ہے‘۔

ریجس جون نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی کمپنی مزدوروں کے پاسپورٹ اپنے پاس رکھتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ غیر قانونی ہے مگر متحدہ عرب امارات میں یہ عام سی بات ہے۔

یہ مزدور ہڑتال پر بھی نہیں جا سکتے کیونکہ یہ بھی ایک غیرقانونی عمل ہے چناچہ وہ بنا تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور ہیں۔

ریجس جون اس مزوری کوغلامی سے تشبیہ دینے کے حق میں نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ ہم کسی بھی قسم کے غلامانہ نظام کے خلاف ہیں‘۔

ریجس جون نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی کمپنی مزدوروں کو ان کی مرضی کے بنا کام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

وینکاٹش کی موت کے بعد بہت سے مزدور اپنے اپنے ملک کو لوٹنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسے ہی مزدور کا کہنا تھا کہ ’ میں نے دبئی کے بارے مںی بہت کچھ سنا تھا کہ یہ کتنی اچھی جگہ ہے لیکن

اودیش
جب سے میں یہاں آیا ہوں مجھے اس جگہ سے نفرت ہو گئی ہے

جب سے میں یہاں آیا ہوں مجھے اس جگہ سے نفرت ہو گئی ہے۔ میں کبھی بھی یہاں واپس نہیں آنا چاہتا۔ میرے گھر والے مجھ سے واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں‘۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد