BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2004, 19:37 GMT 00:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہر کام کا دام

دبئی میں اجنبی
عقابوں کے اس دیس میں کسی کو غیر قانونی کام کروانے والے ایجنٹ دکھائی نہیں دیتے

دبئی میں پاکستانی قونصل خانے کے باہر شناختی کارڈ حاصل کرنے والوں کا ہجوم کئی ہفتوں سے متواتر نظر آ رہا ہے۔ لوگ صبح چھ بجے سے ہی قونصلیٹ کے باہر جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں تاکہ مقررہ وقت تک کاغذات جمع کروا کر اپنے کام دھندے کو جا سکیں۔

نئی طرز کے شناختی کارڈ حاصل کرنے کی آخری تاریخ اکتیس دسمبر سن دو ہزار تین مقرر کی گئی تھی جسے بعد میں ایک مہینہ بڑھا دیا گیا۔ اس کے باوجود ہجوم کے حجم میں کچھ خاص فرق نہیں آیا۔

ان لوگوں میں گھومتے ہوئے کچھ نوجوان ایسے بھی ہیں جو لوگوں کے فارم ٹائپ کرنے کیلئے انہیں اپنی دوکان پر آنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ جوان بعض اوقات قونصل خانے اور باہر کھڑے لوگوں کے درمیان پُل کا کام بھی انجام دیتے ہیں۔ ان کو لوگ ایجنٹ کا نام دیتےہیں۔

اسی قماش کے دو ایک افراد مجھ سے بھی پوچھنے لگے کہ بھائی صاحب شناختی کارڈ بنانا ہے، پاسپورٹ کی تجدید کرانی ہے، یا میٹرک کے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرنی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ جب اس طرح کے سوالوں کا سلسلہ طویل ہو گیا تو میں نے جان چھڑانے کو کہا کہ شناختی کارڈ بنوانا ہے۔ایک نے فوراً بازو پکڑا اور اپنی ٹائپنگ کی دکان کی طرف لے کر چلا۔ میں نے پوچھا پیسے کتنے لو گے؟ جواب ملا بیس درہم۔ یہ قیمت بازار کی قمیت سے دُگنی ہے۔

واضح رہے کہ سبھی قسم کے فارم ان دکانوں سے ہی ملتے ہیں۔

میرے ساتھ ساتھ یہ ایجنٹ ایک دوسرے صاحب کے ساتھ بھی ’ڈیل‘ کرنے میں مصروف تھا جو دور افتادہ امارت راس الخیمہ سے آئے تھے۔ زرباز خان نام کے یہ صاحب اپنے سرٹیفکیٹ کی تصدیق کرانے کے لیے ایک سو درہم دینے کو تیار تھے جبکہ ایجنٹ زیادہ مانگ رہا تھا۔ قونصلیٹ میں اس کام کی فیس آٹھ درہم مقرر ہے۔

میں نے زرباز خان سے پوچھا کہ آپ خود یہ کام کیوں نہیں کراتے تو اُس نے جواب دیا کہ اگر وہ خود جائیں گے تو سرٹیفکیٹ اگلے روز ملے گا جب ان کے لیے آنا ناممکن ہے، جبکہ ایجنٹ یہ کام اپنی جان پہچان سے اسی روز کروا دے گا۔

ایجنٹ کے اختیارات کی حد جاننے کے لیے میں نے پوچھا کہ میٹرک کا جعلی سرٹیفکیٹ تصدیق کروا دو گے؟ اس نے مسکرا کر ہم سے تین سو درہم کا مطالبہ کیا اور کام کے تسلی بخش ہونے کا یقین بھی دلایا۔

قونصلیٹ میں ہیڈ آف چانسری ندیم خان سے دریافت کیا کہ اتنے ہجوم کے باوجود کاؤنٹر پر صرف ایک ہی آدمی درخواستیں وصول کرنے پر کیوں مامور ہے؟ انہوں نے جواب میں سٹاف کی کمی کا رونا رویا اور کہا کہ سٹاف بڑھانے کی سفارش وہ وزارت سے بھی کر چکے ہیں مگر جب تک وہ منظور نہیں ہوتی وہ مجبور ہیں۔

باہر کھڑے ایجنٹوں کے بارے میں پوچھا تو پہلے تو انہوں نے ان کے وجود سے ہی انکار کیا۔ پھر میں نے زرباز خان کی اصلی اور اپنی ’جعلی سند‘ کی تصدیق کی پیشکش کرنے والے کا ذکر کیا اور ان سے پوچھا کہ اگر ایک ایجنٹ پیسے لے کر کام کروا رہا ہے تو کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ آپ کا عملہ بھی اس کاروبار میں شامل ہے؟

ندیم خان نے سختی سے اس کی تردید کی اور کہا کہ یہ ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی مشکل میں مدد مانگے تو متعلقہ سٹاف اسکا کام ترجیحی بنیادوں پر کر سکتا ہے لیکن پیسے کے لین دین کے بغیر۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی ایسے ایجنٹ کے ہتھے چڑھتا ہے تو اس میں قصور اس کا اپنا ہے نا کہ قونصلیٹ کے عملے کا۔

عملے کی بدتمیزی کی شکایت کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آفس میں یونہی نہیں بیٹھے رہتے۔ ’مجھے کلوز سرکٹ ٹی وی کے ذریعے پورا قونصلیٹ نظر آ رہا ہے۔ سٹاف کا کوئی ممبر غفلت کرتا ہے تو ہم ضرور اُس سے باز پُرس کرتے ہیں۔ تاہم اکثر اوقات سٹاف کی غلطی نہیں ہوتی‘۔

شناختی کارڈ بنوانے کی ڈیڈ لائن پھر سر پر ہے، ہجوم جوں کا توں ہے، ایجنٹ حضرات بھی اپنا کام محنت سے کر رہے ہیں، ہاں ہیڈ آف چانسری سے انٹرویو کے بعد اس رپورٹ کے شائع ہونے تک اتنی تبدیلی ضرور آئی ہے کہ لوگوں کی لائین اب قونصلیٹ کی عمارت کے اندر لگنے کی بجائے باہر لگتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد