رمزفیلڈ موصل پہنچ گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ عراقی شہر موصل کے قریب اس فوجی بیس کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں منگل کو ایک خود کش حملے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مسٹر رمزفیلڈ نے پہنچتے ہی حملے میں بچ جانے والے بعض افراد سے فوجی ہسپتال میں ملاقات کی۔ ساتھ جانے والے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر رمزفیلڈ نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد عراق میں تعینات فوجیوں کا شکریہ ادا کرنا اور انہیں کرسمس کے موقع پر مبارک باد دینا ہے۔ منگل کو ہونے والا یہ حملہ عراق میں امریکی افواج کے خلاف سب سے شدید حملہ خیال کیا جاتا ہے۔ امریکی فوج نے کہا ہے کہ حملہ کرنے والا خود کش عراقی فوج کی وردی پہنے ہوئے تھا۔ حملے میں زخمی ہونے والے زیادہ تر فوجیوں کو جرمنی کے فوجی ہسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ رمزفیلڈ نے فوجیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ’میں آپ سب کا بہت شکر گزار ہوں۔ آپ دس، بیس یا تیس سال بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں گے اور آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کتنے اہم کام کا حصہ تھے‘۔ دریں اثناء عراقی اور امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جمعہ کو زیادہ لوگ کیمپوں سے فلوجہ میں اپنے گھروں کو لوٹنے کی درخواست مانتے ہوئے واپس آ جائیں گے۔ عراق کی عبوری حکومت نے دو ہزار افراد کو واپس آنے کی اجازت دی تھی۔ واپس آنے والوں کو امریکی اور عراقی حکام کی طرف سے سخت سکیورٹی انتظامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران جمعرات کو شہر میں امریکی فوجیوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپیں بھی جاری رہیں جن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ فلوجہ واپس آنے والے افراد شہر میں تباہی کا منظر دیکھ کر سہم گئے۔ ایک شہری اسد نے اپنے گھر کی حالت دیکھ کر کہا کہ ’یہ تباہی ہے۔ ادھر کوئی بھی نہیں رہ سکتا، یہاں نہ بجلی ہے نہ پانی‘۔ ’ہمارے گھر اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ یہ سب کچھ دوبارہ بنانے میں کتنا وقت لگ جائے گا؟‘ حکام نے لوگوں کو پانی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کی بات کی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ زیادہ تعداد میں لوگوں کی واپسی سے پہلے حالات کیسے معمول پر آئیں گے جبکہ شہر میں ابھی لڑائی بھی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||