دوسرے تھیٹر کی بھی معذوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برمنگھم کی دوسری تھیٹر کمپنی نے بھی ’بے عزتی‘ نام کے متنازع ڈرامے کو سٹیج کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔ سکھوں کے احتجاج پر برمنگھم کی ہی ریپ تھیٹر نے ’بے عزتی‘ کو سٹیج کرنا بند کر دیا تھا جس پر اس دوسری کمپنی نے اس ڈرامے کو دکھانے کا اعلان کیا تھا۔ برمنگھم سٹیج کمپنی کے عہدیدار نیل فوسٹر کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ ڈرامے کی مصنفہ گرپریت کور بھٹی کی درخواست پر کیا ہے۔ یہ ڈرامہ اک سکھ خاتون ڈرامہ نگارگرپریت کور بھٹی نےلکھا ہے۔ اسے برمنگھم کے ریپ تھیئٹر میں دکھایا جارہا تھا اور ہفتے کی رات سکھوں کے پر تشدد احتجاجی مظاہرے کے بعد ڈرامہ پیش کرنے والوں نے اسے بند کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ ڈرامہ نگار گرپریت کور کو اغوا اور قتل کی دھمکیاں ملی ہیں اس لیے وہ رو پوش ہو گئی ہیں۔ ڈرامے میں ایک گردوارے کے اندر آبرو ریزی اور قتل کے منظر دکھائے جارہے تھے۔ برمنگھم تھیٹر کمپنی کے نیل فوسٹر نے کہا ہے کہ یہ قصہ ایک سٹیج پر ڈرامہ بند کرکے ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اظہار خیال کی آزادی لوگوں کی صحت اور حفاظت سے زیادہ اہم بات ہے۔ اس واقعے پر ڈرامہ نگاروں، ادیبوں اور شہری حقوق کے گروپوں کی جانب جو تنقید ہو رہی ہے اس کا بنیادی نکتہ یہی بات ہے کہ گھیراؤ کرنے والوں نے آزادی پر بھر پور وار کر دیا ہے اور اس کا فوری جواب دینا ضروری ہے۔ مثلاً نیشنل تھیئٹر کے آرٹ ڈائریکٹر نکولس ہائٹنر نے کہا کہ ادب اور فن اسی لیے ہے کہ ہم ایسے کام کریں جو لوگوں کو برے لگیں۔ اس واقعے کے دو پہلو اور بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت ایک مسودۂ قانون تیار کررہی ہے جس کے تحت مذہبی نفرت پھیلانے کو جرم قرار دے دیا جائے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے سکھوں کو اس مسودۂ قانون کی وجہ سے پر تشدد مظاہرے کا حوصلہ ہوا۔ حالانکہ حکومت بار بار کہہ چکی ہے کہ مجوزہ قانون مذہبی عقائد کے تحفظ کے لیے نہیں ہے بلکہ مذہب کے ماننے والے لوگوں کے تحفظ کے لیے ہے۔ اور اگر یہ قانون بن چکا ہوتا تو اس سے کام لے کر کسی پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا تھا۔ دوسرا پہلو ہفتے کی شام کو سکھوں کے مظاہرے کے وقت پولیس کارروائی کا ہے۔ اس مظاہرے سے نمٹنے کے لیے اسی پولیس والے تھے جن میں سے تیس بلوہ سے نمٹنے والے ساز و سامان سے لیس تھے۔ تین افراد کو بلوے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اگر ضرورت سے زیادہ سختی نہ دکھائی ہوتی تو معاملات تشدد کی شکل اختیار نہ کرتے۔ اب محکمۂ داخلہ کی ایک جونیئر وزیر نے کہا ہے کہ اس معاملےکی تفتیش کرائی جائے گی۔ ایک ایشیائی ڈرامہ نگار اشوک کوٹک نے بہت افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اس واقعے نے آزادیِ اظہار کو نقصان پہنچایا ہے لیکن آخر میں لکھتے ہیں کہ آبرو ریزی اور قتل گردوارے کے اندر دکھانا لوگوں کے دلوں میں اشتعال پیدا کرنے کا سبب ہوا ہے۔ یہی سین کسی کمیونٹی سنٹر میں دکھائے جاسکتے تھے اور ان کا وہی اثر ہوتا۔ سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ جن لڑکیوں کی آبرو ریزی کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ ڈرامہ لکھا اور پیش کیا گیا تھا کیا اب ان کی آواز سنانے والا کوئی اور سامنے آسکے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||