ہم جنس سکندر پر یونانی ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونانی وکیلوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سکندراعظم پر بنائی جانے والی فلم میں اسے ہم جنس دکھایا گیا تو وہ فلم ساز پر مقدمے کریں گے۔ ناراض وکیلوں کی قیادت کرنے والے وکیل یانس وارناکوس کا کہنا ہے کہ وہ فلم بینوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فلم محض فکشن پر مبنی ہے نہ کہ سکندر کی حقیقی زندگی پر۔ مشہور ڈائریکٹر اولیور سٹون کی اس نئی فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے کولن فیرل کا کہنا ہے کہ ’ہم جنسیت اس زمانے کا رواج تھی سو اس کردار کی زندگی کا بھی حصہ ہے‘۔ ڈائریکٹر اولیور سٹون کا کہنا ہے کہ ’حقیقت کی عکاسی کرنے میں کچھ تذبذب پایا جاتا تھاتاہم تاریخی حقائق کی زیادہ سے زیادہ بہتر عکاسی کے لیے ایک تاریخ داں ہر وقت سیٹ پر موجود رہا ہے۔ فلمساز کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں دو آراء نہیں ہے کہ دیو مالائی شخصیت رکھنے والا سکندر، مختلف لذتوں کا شوق رکھتا تھا اور ان کا مختلف سے مختلف اور گہرا سے گہرا تجربہ کرنا چاہتا تھا‘۔ وکیل یہ مطالبہ پہلے ہی کر چکے ہیں کہ فلم میں نمایاں طور پر اس کا اظہار کیا جائے کہ فلم خالص فکشن پر مبنی ہے۔ ورنر بردرز اور اولیور سٹون نے اس مطالبے پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ وکیلوں کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کی مہم ہم جنسیت پرستوں کے خلاف نہیں ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا تو وہ مزید کارروائی کریں گے۔ وکیلوں کے برخلاف ’گے اینڈ لسبین الائنس اگینسٹ ڈیفیمیشن‘ جی ایل اے اے ڈی نے فلم کا خیر مقدم کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||