BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 07:34 GMT 12:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہم جنس سکندر پر یونانی ناراض
اولیور سٹون
فلم کے ڈائریکٹر اولیور سٹون
یونانی وکیلوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر سکندراعظم پر بنائی جانے والی فلم میں اسے ہم جنس دکھایا گیا تو وہ فلم ساز پر مقدمے کریں گے۔

ناراض وکیلوں کی قیادت کرنے والے وکیل یانس وارناکوس کا کہنا ہے کہ وہ فلم بینوں پر یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فلم محض فکشن پر مبنی ہے نہ کہ سکندر کی حقیقی زندگی پر۔

مشہور ڈائریکٹر اولیور سٹون کی اس نئی فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے کولن فیرل کا کہنا ہے کہ ’ہم جنسیت اس زمانے کا رواج تھی سو اس کردار کی زندگی کا بھی حصہ ہے‘۔

ڈائریکٹر اولیور سٹون کا کہنا ہے کہ ’حقیقت کی عکاسی کرنے میں کچھ تذبذب پایا جاتا تھاتاہم تاریخی حقائق کی زیادہ سے زیادہ بہتر عکاسی کے لیے ایک تاریخ داں ہر وقت سیٹ پر موجود رہا ہے۔

فلمساز کا کہنا ہے کہ ’اس بارے میں دو آراء نہیں ہے کہ دیو مالائی شخصیت رکھنے والا سکندر، مختلف لذتوں کا شوق رکھتا تھا اور ان کا مختلف سے مختلف اور گہرا سے گہرا تجربہ کرنا چاہتا تھا‘۔

وکیل یہ مطالبہ پہلے ہی کر چکے ہیں کہ فلم میں نمایاں طور پر اس کا اظہار کیا جائے کہ فلم خالص فکشن پر مبنی ہے۔

ورنر بردرز اور اولیور سٹون نے اس مطالبے پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

وکیلوں کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کی مہم ہم جنسیت پرستوں کے خلاف نہیں ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبے کو نظر انداز کیا گیا تو وہ مزید کارروائی کریں گے۔

وکیلوں کے برخلاف ’گے اینڈ لسبین الائنس اگینسٹ ڈیفیمیشن‘ جی ایل اے اے ڈی نے فلم کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد