لمبی قطاریں، بڑے پیمانے پر ووٹنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ عشروں کے سخت ترین صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کے لیے پورے امریکہ میں پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں اور دونوں امیدواروں کےحامی بڑے پیمانے پر ووٹ دے رہے ہیں۔ رائے شماری کے بیشتر جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ صدر جارج بش اور ان کے چیلنجر سینیٹر جان کیری کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے اور سیاسی مبصرین کسی بھی امیدوار کے حق میں حتمی طور پر کچھ کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ نو مہینے تک دونوں بڑے امیدواروں کے سیاسی بیانات اور میڈیا پر نہ ختم ہونے والے تبصرے سننے کے بعد امریکی عوام نے بالآخر اب سینیٹر جان کیری اور صدر بش کی قسمت کا فیصلہ ان بیلٹ بکسوں میں بند کررہے ہیں۔ بعض ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی بھی شروع ہوچکی ہے۔ تاہم ووٹنگ کے رجحانات بدھ کی صبح تک ہی ملنا شروع ہوں گے۔ زیادہ تر ریاستوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ووٹر ریکارڈ تعداد میں پولنگ سٹیشن تک پہنچ رہے ہیں اور مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ میں الیکشن کی تاریخ کے تمام پچھلے ریکارڈ شائد اس مرتبہ ٹوٹ جائیں۔ صرف فیلیڈیلفیا کے دو حلقوں میں آج دوپہر تک اتنے ووٹ ڈالے جا چکے تھے جتنے پچھلے الیکشن میں پورے دن میں ڈالے گئے تھے۔ ملک کے زیادہ تر حصوں میں ووٹنگ بغیر کسی دشواری کے جاری ہے جس سے اس بات کے اندیشے بھی اب کم ہورہے ہیں کہ پچھلے الیکشن کی طرح اس مرتبہ بھی حتمی فیصلہ عوام کے ووٹوں کی بجائے عدلیہ کے ایوانوں میں ہوگا۔ لیکن اس سلسلے میں ابھی تک حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔
صدر بش اپنی آبائی ریاست ٹیکساس میں ووٹ ڈالنے کے بعد فیصلہ کن ریاست اوہائیو میں الیکشن کے دن بھی مہم کرنے کے بعد اب واپس واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں اطلاعات کےمطابق وہ اپنے اہل خانہ اور سٹاف ممبران کے ساتھ الیکشن کے نتائج دیکھیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی فتح کی صورت میں واشنگٹن میں ایک وکٹری ریلی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ امریکی تاریخ میں یہ الیکشن کتنا اہم ہے اس بات کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں امیدواروں نے ووٹنگ کے دن بھی انتخابی ریلیوں میں حصہ لیا اور ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر جان کیری نے بھی منگل کی صبح ایک اور فیصلہ کن ریاست ونسکانسن کا دورہ کیا جس کے بعد وہ اپنی آبائی ریاست میساچیوسٹ میں بوسٹن پہنچے جہاں کوپلی پلازہ کے مقام پر وہ اپنے نائب کے ساتھ اپنی فتح کی صورت میں ایک جلسے سے خطاب کرنے والے ہیں۔ بوسٹن کی پبلک لائبریری کے باہر کوپلی پلازہ کے سامنے ایک چھوٹے سے میدان میں جان کیری کے حامیوں نے فتح کی صورت میں ممکنہ جشن کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور مشہور گلوکار بروس سپرنگسٹین آج رات یہاں بوسٹن میں ڈیموکریٹ حامیوں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں۔ جیسے جیسے الیکشن کے نتائج سامنے آئیں گے ویسے ہی ان دونوں امیدواروں کے بیس کیمپوں پر جوش میں اضافہ ہوگا۔ شمال مشرق میں کئی ریاستوں میں موسم شدید خراب ہونے کی وجہ سے ووٹنگ کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے لیکن باقی تمام ملک میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ فیصلہ کن ریاستوں میں سے ایک ریاست اوہائیو میں پولنگ سٹیشنوں میں امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی پر جو تنازعہ پچھلے کئی روز سے چل رہا تھا اس پر منگل کی صبح ریاست کی عدالت نے رپبلکن پارٹی کی حمایت میں فیصلہ سناتے ہوئے یہ کہا کہ یہ نمائندے وہاں موجود رہ سکتے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا تھا کہ اس طرح کی موجودگی کی الیکشن قوانین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان انتخابات کا فیصلہ چند اہم ریاستوں میں ہی ہوجائے۔ جو ریاستیں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں ان میں فلوریڈا، پینسلونیا اور اوہائیو سرفہرست ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||