BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 November, 2004, 02:24 GMT 07:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بُش اور کیری کون ہیں؟

بُش اور کیری
منگل کو امریکہ کے چوالیسویں صدر کا انتخاب ہوگا
سینیٹر جان کیری

سینیٹر جان کیری 11 دسمبر 1943 میں پیدا ہوئے۔ان کے والد دوسری جنگ عظیم کے فوجی اور ان کی ماں سرگرم سماجی خاتون تھیں۔

انہوں نے ییل یونیورسٹی سے گریجوایشن کی اور امریکہ کی بحری فوج میں شامل ہو گئے۔ انہوں نے ویت نام کی جنگ میں حصہ لیا اور کئی اعزازی تمغے حاصل کئے۔

جنگ سے واپسی پر انہوں نےویت نام جنگ کی مخالف تحریک میں بھرپور حصہ لیا اور اپنے اعزازی تمغے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے۔

سینیٹر کیری نے اپنے سیاسی زندگی کا آغاز سرکاری وکیل کے طور پر شروع کیا اور اس میں کافی شہرت حاصل کی۔ وہ 1982 میں میساچیوسٹ ریاست کے نائب گورنر منتخب ہوئے لیکن اس کے دو سال بعد ہی امریکہ کی سینٹ کے ممبر منتخب ہوگئے۔

وہ بیس سال سے سینٹ کے ممبر ہیں اور اس کی خارجہ امور کی اہم ترین کمیٹی کے ممبر ہیں۔ ان کو امریکی سینٹ کا سب سے زیادہ آزاد خیال سینیٹر مانا جاتا ہے۔

سینیٹر کیری کے صدارتی ایجنڈے میں عوام کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا، بجٹ کا بڑھتا ہوا خسارہ کم کرنا، امیروں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کرنا ، درمیانے طبقے کو مزید معاشی رعایتیں دینا اور ماحولیات کا تحفظ جیسے امور شامل ہیں۔

وہ مسلمان اقلیت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطالبے پر پیٹریاٹ ایکٹ کی سِول آزادیوں کے خلاف شقوں کو ختم کرنے کا بھی وعدہ بھی کر چکے ہیں۔

دہشت گردی کو کم کرنے اور عراق کی جنگ کو ختم کرنے کے لئے وہ یورپ اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ اشتراک عمل چاہتے ہیں۔

وہ ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگراموں کے خاتمے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ وہ پاکستانی امریکیوں کو بار بار یقین دلاتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے بارے میں موجودہ حکومت کی پالیسی کو تبدیل نہیں کریں گے۔

ان کی پہلی شادی سے دو بیٹیاں الیگزنڈرا اور وینسا ہیں۔ ان کی موجودہ شادی ارب پتی خاتون ٹریسا ہینز کیری کے ساتھ 1995 میں ہوئی۔

سینیٹر کیری کو سائیکل چلانے، کوہ پیمائی اور پیراکی کا بہت شوق ہے ۔

قدامت پسند بُش پر جان چھڑکتے ہیں
قدامت پسند بُش پر جان چھڑکتے ہیں

صدر جارج ڈبلیو بش
صدر جارج ڈبلیو بش 6 جولائی 1946 میں پیدا ہوئے اور ٹیکساس میں پلے بڑھے جہان ان کے والد، سابقہ صدر بش، پٹرول کا کاروبار کرتے تھے۔

انہون نے ییل یونیورسٹی سے بی اے کیا اور 1968 میں ویت نام جنگ کے دوران ٹیکساس ایئر نیشنل گارڈ میں پائلٹ کے طور پر بھرتی ہوگئے۔

ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ ویت نام جنگ میں جبری بھرتی سے بچنے کے لیے سفارش سے نیشنل گارڈ میں گئے جہاں انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی۔

صدر بش نے 1975 میں ہارورڈ ینیورسٹی کے بزنس سکول سے ایم اے کی سند حاصل کی اور واپس ٹیکساس جا کر تیل کے کاروبار میں لگ گئے لیکن کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔

انہوں نے 1988 میں اپنے والد کی صدارتی مہم میں حصہ لیا اور 1989 میں بیس بال کی ٹیم ٹیکساس رینجرز خریدی اور اس کے مینیجر جنرل بن گئے۔

وہ1994 اور 1998 میں دو بار ٹیکساس کے گورنر منتخب ہوئے۔ وہ 2000 میں نائب صدر الگور کو شکست دے کر امریکہ کے تینتالیسویں صدر منتخب ہوئے۔

ان کے عہد صدارت میں 11/9 کا سانحہ پیش آیا اور امریکہ نے افغانستان اور عراق پر حملہ کیا۔ بقول صدر بش کہ انہوں نے افغانستان اور عراق کو آزاد کراوایا۔

انہوں نے اپنے عہد صدارت کا زیادہ وقت دہشت گردی اور عراق کے خلاف جنگ میں گزارا ہے۔ انہوں نے پیٹریاٹ ایکٹ منظور کروایا جو ان کے ناقدین کے بقول سول آزادیوں پردست درازی کے مترادف ہے۔

جارج بُش کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تعلیمی نظام کو بہتر بنایا ہے، بوڑھے لوگوں کی صحت پر آنے والے اخراجات کم کیے ہیں اور شہریوں پر ٹیکس کا بوجھ کم کر کے معیشت بحال کی ہے۔

وہ ہم جنس شادیوں کی روک تھام کے لیے امریکہ کے آئین میں تبدیلی کروانا چاہتے ہیں اور اسقاط حمل کو روکنے کے لیے سخت قسم کے قوانین منظور کروانا چاہتے ہیں۔

صدر بُش اپنے آپ کو بنیاد پرست عیسائیوں میں شمار کرتے ہیں اور اپنے سیاسی اعمال کو خدا کی رضا قرار دیتے ہیں۔ جنوبی ریاستوں کے بنیاد پرست عیسائی بھی ان پر جان چھڑکتے ہیں۔

صدر بُش پاکستان کے صدر جنرل مشرف کواپنادوست قرار دیتے ہیں اور ان کی بر ملا تعریف کرتے ہیں۔ وہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کو اپنا اتحادی قرار دیتے ہیں اور اس کی مالی امداد کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

ان کی اہلیہ لارا بش سابقہ ٹیچر اور لائبریرین ہیں۔ ان کی دو جڑواں بیٹیاں باربرا اور جینا ہیں۔ان کے خاندان میں بارنی نام کا کتا اور انڈیا نامی بلی بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد