BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 October, 2004, 15:25 GMT 20:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی الیکشن کے ’ووٹ کاٹُو‘
مائیکل بیڈنارک
صدر بش کے حامی ٹی وی چینل پر چلنے والا ایک انتخابی اشتہار: ایک ادھیڑ عمر کا آدمی انتہائی مایوسی میں وال سٹریٹ جرنل (سرمایہ داروں کا پسندیدہ اخبار) کچن ٹیبل پر پھینک کر بیوی سے کہتا ہے ’وہ کون سا قدامت پرست ہے جو آدھا کھرب سالانہ کا بجٹ کا خسارہ بڑھاتا جائے اور ہمیں نہ جیتے جانے والی جنگ میں دھکیل دے؟‘۔

پھر دل شکستہ بیوی سے کہتا ہے کہ میں کیری کو تو ووٹ دے نہیں سکتا۔ بیوی خوش ہو کر اسے کہتی ہے ’تو نہ دو‘ اور سجھاتی ہے کہ وہ مائیکل بیڈنارک کو ووٹ دے۔

مائیکل بیڈنارک لبرٹیریین پارٹی کے صدارتی امیدوار ہیں اور بہت سے ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس سخت مقابلے کے الیکشن میں صدر بش کے ساتھ وہی ہاتھ کر سکتے ہیں جو رالف نادر نے 2000 میں الگور کے ساتھ فلوریڈا میں کیا تھا-

یاد رہے کہ الگور صدارتی انتخاب اس لئے ہارے تھے کہ انہیں فلوریڈا میں پانچ سو کچھ ووٹ کم ملے تھے۔ اس کی یہ وجہ بھی تھی کہ نادر کئی ہزار لبرل ووٹ لے اڑے تھے- مائیکل بیڈنارک کو نادر پر یہ برتری بھی حاصل ہے کہ ان کا نام نیو ہیمپشائر کے علاوہ ہر ریاست کے بیلٹ پر ہے جبکہ نادر کا در درجن ریاستوں میں نہیں ہے۔

رائے عامہ کے کچھ جائزوں کے مطابق کئی ریاستوں میں بیڈنارک اور نادر برابر ایک فیصد ووٹ لے رہے ہیں۔ لیکن میدان جنگ کی ریاستوں میں بینڈ نارک کی پوزیشن ایسی ہے کہ وہ صدر بش کی شکست کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثلاً ان کو وسکانسن میں 2 فیصدٹ نواڈا میں 3 فیصد اور نیو میکسیکو میں 5 فیصد ووٹ مل رہے ہیں۔ اگر بش ہاریں گے تو اتنے ووٹوں سے ہی جتنے بیڈنارک لے رہے ہیں۔

ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر پنسلوینیا میں وہی ہوا جو پچھلے الیکشن میں فلوریڈا میں ہوا تھا تو مائیکل بیڈ نارک بش کے ریپبلکن اور آزاد ووٹ توڑ کر بادشاہ گر کا خطاب پائیں گے۔

مائیکل بیڈنارک بش کو اس لئے نقصان پہچا سکتے ہیں کہ بہت پہلووں سے وہ بش اور ریپبلکن پارٹی سے بھی زیادہ قدامت پرست ہیں۔ لبرٹیریین پارٹی حکومت کے وجود کا خاتمہ چاہتی ہے۔ اس کا نظریہ ہے کہ حکومتی ادارے فرد کی آزادی کو سلب کر لیتے ہیں۔ جناب بیڈنارک کا کہنا ہے کہ اگر وہ صدر بن گئے تو ٹیکس کا شعبہ ہے ختم کردیں گے اور صحت کا پورا نظام نجی شعبے کے ہاتھ میں دے دیں گے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ فوری طور پر عراق سے فوجین واپس بلا لیں گے۔

مائیکل بیڈنارک تو بش کا دردسر بنے ہوئے ہیں لیکن امریکہ کی گرین پارٹی یورپیین گرین پارٹیوں کی طرز پر امریکہ میں منصفانہ سماجی اقدار کے لئے لڑ رہی ہے۔ اس نے پچھلے الیکشن میں رالف نادر کو ٹکٹ دیا تھا لیکن اس مرتبہ اس نے ڈیوڈ کوب کو صدارت اور مس پیٹ لا مارشے کو نائب صدر کے لئے کھڑا کیا ہے۔گرین پارٹی کے امیدوار لبرٹیریین پارٹی کی طرح ہر ریاست کے بیلٹ پر ہوں گے کیونکہ وہ ایک مسلمہ قومی پارٹی ہے۔ اس کے انتخابی ایجنڈے کے دس اہم نقاط میں عوامی جمہوریت، سماجی انصاف، ماحولیات کا بچاؤ اور ہر طرح کے تعصب کا خاتمہ بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ وہ دونوں بڑی پارٹیوں کو امیروں اور کار پوریشنوں کا ایجنٹ سمجھتی ہے۔

گرین پارٹی نے کیری کی حمایت کا اعلان تو نہیں کیا لیکن وہ کوشش کر رہی ہے کہ وہ بش کو جتوانے کا باعث نہ ہو۔ اس لئے اس نے نادر کا بھی ساتھ نہیں دیا اور اپنی انتخابی مہم صرف ان ریاستوں میں چلا رہی ہے جس میں کیری بہت آگے ہیں یا اتنے پیچھے کہ گرین پارٹی کی مہم سے اسے کوئی نقصان نہیں ہو سکتا- گرین پارٹی کی حکمت عملی ہے کہ کیری جیت جائے۔

گرین پارٹی کی علیحدگی کا نادر کو بہت نقصان ہوا ہے کیونکہ وہ اس وجہ سے بہت سی ریاستوں کے بیلٹ پر نہیں آسکے۔ اس سال نادر ڈیموکریٹک پارٹی کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ اس کے پرانے اتحادی ان سے علیحدہ ہو چکے ہیں اور ان کے بہت سے ووٹروں کو افسوس ہے کہ انہوں نے پچھلے الیکشن میں نادر کو ووٹ دے کر بش کو جتوایا۔ اس الیکشن میں کوئی بھی یہ غلطی دہرانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ان کو ایک فیصد سے کم ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ کلی طور پر شاید وہ لبر ٹیریین پارٹی کے مائیکل بیڈنارک جتنی بھی اہمیت نہ بنا سکیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد