اسلحہ کی واپسی کی مہم میں توسیع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا کہ کہ شدت پسندوں سے ہتھیاروں کے بدلے پیسے دینے کی مہم بغداد کےساتھ ساتھ دوسرے حصوں میں بھی شروع کی جائے گی۔ مسٹر علاوی نے کہا کہ یہ پروگرام کامیاب رہا ہے۔ بغداد میں مزاحمت کاروں سے ہتھیار لینے کی مدت میں جمعرات تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے لیکن اس کے بعد حفاظتی دستے غیر قانونی اسلحہ کی تلاش شروع کر دیں گے۔ وزیر اعظم نے عراق کی عبوری کابینہ میں کہا کہ ہم اسلحہ لینے کی اس مہم کو ملک کے دوسرے علاقوں تک لیکر جائیں گے۔ ایاد علاوی نے کہا کہ اس کا آغاز بصرہ سے کیا جائے گا۔ایاد علاوی نے کہا کہ صدر سٹی میں ہتھیار حکام کے حوالے کرنے کی مدت میں اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ کچھ لوگ وقت پر اپنے ہتھیار جمع نہیں کرا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت باغیوں کے قبضے والے علاقے فلوجہ میں دو ملین پاؤنڈ کی مالیت کی امداد فراہم کرئے گی۔ بغداد سے سو کلو میٹر دور مغرب میں واقع اس شہر پر امریکی افواج نے کئی ہفتوں تک پوری پوری رات بمباری کی ہے۔ اردن نے امریکی اور عراقی فوجی دستوں سے اپیل کی ہے وہ فلوجہ کا محاصرہ اور وہاں حملے بند کریں تاکہ امدادی اور طبی ٹیمیں وہاں جا سکیں ۔ دریں اثناء عراق کے مختلف حصوں میں تشدد کے واقعات جاری ہیں ۔ اتوار کی رات بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں تین پولیس والوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی علاقے میں کچھ دیر بعد ہونے والے دھماکے میں ایک اور شخص ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ جبکہ شمالی شہر موصل میں اتوار ہی کو ہونے والے ایک اور کار بم دھماکے میں پانچ عراقی ہلاک اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||