عراق: جوہری سازو سامان ’غائب‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے تنبیہ کی ہے کہ عراق پر حملے کے بعد سے وہاں سے جوہری ہتھیار بنانے کا سازو سامان غائب ہوتا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ادارے کے سربراہ محمد البرادئی عراق میں امریکہ کی حمایت یافتہ قیادت نے فرائض میں شامل ہوتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کو اس کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں دی۔ لیکن انہوں نے غیر ضروری جوہری مواد کی فروخت میں مدد کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے۔ بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو امریکہ نے عراق میں آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی۔ عراق پر حملے سے قبل آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین جوہری پروگرام ترک کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے نام ایک خط میں البرادئی نے کہا ہے کہ اس عمارت میں سے جس میں ماضی میں عراق کے جوہری پروگرام پر عمل ہوتا تھا بظاہر آہستہ آہستہ سازو سامان غائب کیا گیا ہے اور اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ البرادئی نے تمام ممالک سے کہا اگر کسی کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کام آنے والے سامان کی فروخت کے بارے میں کوئی اطلاع ملے تو ان کے ادارے کو مطلع کیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||