BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 October, 2004, 06:26 GMT 11:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: جوہری سازو سامان ’غائب‘
غیر ملکی فوجی
’کچھ حساس آلات فروخت کے لیے بیرون ممالک بھی پہنچے ہیں‘
اقوام متحدہ نے تنبیہ کی ہے کہ عراق پر حملے کے بعد سے وہاں سے جوہری ہتھیار بنانے کا سازو سامان غائب ہوتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ادارے کے سربراہ محمد البرادئی
نے کہا کہ سیارچوں سے لی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری پوری عمارات بغیر کسی ریکارڈ کے آہستہ آہستہ غائب ہو گئی ہیں۔

عراق میں امریکہ کی حمایت یافتہ قیادت نے فرائض میں شامل ہوتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کو اس کے بارے میں کوئی رپورٹ نہیں دی۔ لیکن انہوں نے غیر ضروری جوہری مواد کی فروخت میں مدد کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے۔

بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کے انسپکٹروں کو امریکہ نے عراق میں آزادی سے نقل و حرکت کی اجازت نہیں دی۔ عراق پر حملے سے قبل آئی اے ای اے نے کہا تھا کہ عراق کے سابق صدر صدام حسین جوہری پروگرام ترک کر چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے نام ایک خط میں البرادئی نے کہا ہے کہ اس عمارت میں سے جس میں ماضی میں عراق کے جوہری پروگرام پر عمل ہوتا تھا بظاہر آہستہ آہستہ سازو سامان غائب کیا گیا ہے اور اسے ختم کر دیا گیا ہے۔

البرادئی نے تمام ممالک سے کہا اگر کسی کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں کام آنے والے سامان کی فروخت کے بارے میں کوئی اطلاع ملے تو ان کے ادارے کو مطلع کیا جائے۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد