بنگلہ دیشی جنرل سے رینک واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش کے سابق فوجی سربراہ جنرل مستافیز الرحمٰن کے اس بیان کے بعد جس میں انہوں نے فوج پر الزام لگایا تھا کہ اس نے حزبِ اختلاف کی ریلی پر گرینیڈ حملہ کے شواہد ضائع کیے ہیں، ان سے مکمل جنرل ہونے کا رینک چھین لیا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ ان کی ترقی غیر قانونی تھی اس لیے وہ واپس لے لی گئی ہے۔ جواب میں فوج کے سابق سربراہ اور سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے رشتہ دار نے کہا ہے کہ یہ سب ان کو بے عزت کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مستافیز الرحمٰن کو 18 دسمبر 2000 میں فور سٹار جنرل کا رینک دیا گیا تھا۔ اس دن ہی وہ فوج سے ریٹائر ہوئے تھے۔ تاہم وزارتِ دفاع کے مطابق سابق حکومت کی طرف سے دی گئی ترقی غیرقانونی تھی۔ وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ’بنگلہ دیش کی فوج میں ایسا کوئی عہدہ نہیں ہے اور یہ ترقی سابق صدر کی کی اجازت کے بغیر دی گئی تھی‘۔ تاہم سابق فوجی سربراہ مستافیز الرحمٰن کا کہنا ہے کہ اسی وزارتِ دفاع نے ان کی ترقی کے آرڈر جاری کیے تھے۔
1971 کی جنگ کے میں اپنے کردار کی وجہ سے ’بیر بکرم‘ ایوارڈ پانے والے سابق جنرل پہلے بھی تنازعہ کا شکار رہے ہیں۔ 1997 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ انہیں اس دن حاضر سروس لے آئیں جس دن مستافیز الرحمٰن کو ریٹائر ہونا تھا۔ اس کے بعد انہیں مختلف عہدوں پر لانے کے بعد 1998 میں آرمی چیف بنا دیا گیا۔ پورے جنرل بن جانے کے بعد مستافیز الرحمٰن ریٹائر ہو گئے اور انہوں نے شیخ حسینہ کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی اور 2001 کے انتخابات میں حصہ لیا۔ حال ہی میں سابق جنرل نے ایک بیان میں فوج پر الزام لگایا کہ اس نے اس سال اگست میں ہونے والی انتخابی ریلی میں گرینیڈ بم کے حملے کے شواہد تباہ کر دیے ہیں۔ اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ایک اخباری بیان میں مستافیز الرحمٰن نے کہا کہ حملے میں استعمال کیے جانے والے کچھ گرینیڈ چلے نہیں تھے تاہم انہیں بعد میں فوج نے تباہ کر دیا۔ حکومت اور فوج نے ان کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ پارلیمان کی ڈیفنس کمیٹی نے سب کو کہا ہے کہ ’فوج کو پارٹی کی سیاست سے دور رکھیں‘۔ مستافیز الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ بعد میں فیصلہ کریں گے کہ اپنا رینک واپس لینے کے لیے کب قانونی کارروائی کریں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||