ڈھاکہ:حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں ہزارو ں افراد نے حزب اختلاف کی ریلی میں شرکت کی جس میں چار جماعتی حکومتی اتحاد سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حزبِ اختلاف کی رہنما شیخ حسینہ واجد نے، جو اگست میں خود پر بم کے ایک حملے کے بعد پہلی بار کسی عوامی اجلاس میں شرکت کر رہی تھیں، کہا کہ وہ حکومت کے استعفیٰ تک اپنی تحریک جاری رکھیں گی۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے مظاہروں کے پروگرام کا اعلان کیا اور آئندہ اتوار کو ملکی سطح پر ہڑتال کی اپیل کی۔ حزبِ اختلاف کا جسلہ اس مقام کے قریب ہوا جہاں اکیس اگست کو ایک جلسے کے دوران بم حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک اور ایک سو زخمی ہو گئے تھے۔ شیح حسینہ واجد نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور ان اگست میں ان کے جلسے پر بم حملے کے ملزمان کے بارے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جلسے کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے جن میں سادہ لباس اور وردی میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||