سوکرنوپتری شکست کے قریب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا میں ہونے والے پہلے براہ راست صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک کے سابق وزیر برائے سیکیورٹی جنرل سوسیلو بامبنگ یودہویونو صدر میگاوتی سوکرنوپتری کو شکست دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ اب تک نصف سے زیادہ ووٹوں کی گنتی کی جا چکی ہے جن میں سے ساٹھ اعشاریہ دو ووٹ جنرل سوسیلو بامبنگ یودہویونو کے حق میں ہیں جبکہ صدر سوکرنوپتری کو صرف انتالیس اعشاریہ آٹھ ووٹ ملے ہیں۔ جنرل سوسیلو بامبنگ یودہویونو نے رات گئے ہونے والی ایک مختصر نیوز کانفرنس میں کہا کہ انہیں موصولہ نتائج پر خوشی ہے۔ بنگلہ دیش میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج کافی دن تک آتے رہے ہیں البتہ الیکشن جیتنے والے امیدوار کے بارے میں سرکاری اعلان پانچ اکتوبر تک نہیں ہو پائے گا۔ جنرل سوسیلو بامبنگ یودہویونو نے پُرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد پر صدر سوکرنوپتری کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ انڈونیشیا کی موجودہ صدر میگاوتی سوکرنو پتری کوسابق فوجی جنرل سوسیلو بامبنگ یودہویونو کی طرف سے سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔ انڈونیشیا کے طول و عرض میں پانچ لاکھ پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے اور دوسرے مرحلے میں ہونے والی پولنگ کا جائزہ لینے کے لیے دنیا بھر سے پانچ مبصرین انڈونیشیا پہنچے تھے۔ پولنگ کے آغاز سے قبل صدر میگاوتی سوکرنو پتری نے عوام سے کہا کہ وہ دنیا پر یہ واضح کر دیں کہ ہم پرامن ، جمہوری اور منظم طریقے سے انتخابات کا انعقاد کر سکتے ہیں۔ جکارتہ میں نو ستمبر کو آسٹریلوی سفارت خانے پر ہونے والے بم حملے کے بعد انڈونیشیا میں صدارتی انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کے مطابق انتخابات کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ پیر کو ہونے والی پولنگ انڈونیشیا میں مرحلہ وار انتخابات کی آخری کڑی ہے۔ اس سے پہلے اپریل میں پارلیمان کے انتخابات ہوئے تھے اور صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ جولائی میں ہوا تھا۔ جولائی میں صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پانچ صدارتی امیدواروں میں سے میگاوتی سوکرنوپتری اور سوسیلو بامبنگ یودہویونو فیصلہ کن مرحلے میں پہنچے تھے۔ پہلے مرحلے میں سیوکارنوپتری کو چھبیس عشاریہ چھ فیصد ووٹ پڑے تھے جبکہ ان کے مدِمقابل نے تینتیس عشاریہ پانچ فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||