کرکک:خود کش حملے میں23 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کرکک میں عراقی نیشنل گارڈ کے دفتر کے باہر ایک خود کش کار بم دھماکے میں تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والے سکیورٹی کے اہلکار تھے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران مزاحمت کاروں کی کارروائیوں اور امریکی و عراقی فوجی آپریشن کے نتیجے میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق یہ خودکش دھماکہ سنیچر کے روز کرکک میں عراقی نیشنل گارڈ کے صدر دفتر پر اس وقت ہوا جب لوگ فوج میں بھرتی کے لئے درخواستیں جمع کرانے کی غرض سے قطار میں لگے تھے۔ سنیچر کو ہی دارالحکومت بغداد میں سڑک کے کنارے ایک بم پھٹنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ اس سے قبل امریکی اور عراقی فورسز نے بغداد میں ایک بڑا آپریشن کرکے تریسٹھ افراد کو گرفتار کر لیا۔ پہلے امریکی اور عراقی فوج نے بغداد کے وسط میں حیفہ سٹریٹ کا محاصرہ کر لیا جہاں سے شدت پسندوں نے امریکہ کے زیرِ کنٹرول گرین زون پر مارٹر حملے کیے۔ گرین زون میں عراقی وزارتوں کے دفاتر کے علاوہ امریکی اور برطانوی سفارت خانے بھی واقع ہیں۔ بڑے پیمانے پر ہونے والی اس فوجی کارروائی اور محاصرے کے دوران امریکی اور عراقی پولیس نے 63 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حیفہ سٹریٹ کے علاقے میں جو افراد گرفتار ہوئے ہیں ان میں شامی، لبنانی اور دوسرے شامل ہیں۔ امریکی اور عراقی فوج کی کارروائی کے دوران آتشگیر مادے سے بھری ہوئی ایک کار رشید سٹریٹ کے علاقے میں پولیس کے ایک قافلے سے ٹکرا گئی جس سے پولیس کے تین اہلکار ہلاک اور سینتیس زخمی ہوگئے۔ اس سے قبل امریکی فوجوں نے دریائے دجلہ کے قریب ایک کار پر فائرنگ کر کے فوجی چوکی پر خود کش بمبار حملے کو ناکام بنا دیا۔ امریکی فوج نے فلوجہ میں پھر سے فضائی حملے کیے ہیں جن میں چھ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ چوبیس گھنٹوں کے دوران فلوجہ پر فضائی حملوں کی یہ دوسری کارروائی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||