14 سال بعد عراقی پرواز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ چودہ سال بعد آج سے اس کی پروازوں کا سلسلہ پھر شروع ہو رہا ہے۔ یہ سلسلہ جنگ کے بعد لگنے والی تادیبی پابندیوں کی وجہ سے روک دیا گیا تھا۔ چودہ سال کے بعد عراقی ایئرویز کی پہلی پرواز ہفتے کی صبح عمان کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روانہ ہوگی- اور اس فلائٹ سے عمان اور بغداد کے درمیان باقاعدہ فضائی سروس کا آغاز ہو جائے گا- عراقی ایئرویز عنقریب دمشق کے لیے بھی پروازیں شروع کرے گی اور توقع ہے دبئی بھی اس کی پروازوں کی منزل ہوگی- لیکن عراقی ایئرویز کی پروازوں کا جال فی الحال بے حد محدود ہوگا کیونکہ اس کے پاس صرف ایک ہی طیارہ ہے جو پروازوں کے قابل ہے- سن چھیالیس میں قائم ہونے والی عراقی ایئرویز کی پروازیں سن اکیانوے کی جنگ کے بعد اقتصادی تادیبی پابندیوں کی وجہ سے بند کردینی پڑیں تھیں- جب سے اس کے روسی ساخت کے طیارے مشرق وسطی کے مختلف ہوائی اڈوں پر کھڑے ہیں اور ان میں زنگ لگ رہا ہے- اس وقت بہت کم ایرلائنز بغداد جانے کا خطرہ مول لینے کے لئے آمادہ ہیں۔ لہذا عراقی ایئرویز کے وارے نیارے ہیں اور عمان سے بغداد تک نہایت مختصر پرواز کا کرایہ اس نے ساڑھے سات سو ڈالر مقرر کیا ہے- تاہم جو لوگ بغداد جانے کا خطرہ مول لئے بغیر نہیں رہ سکتے ان کے لئے یہ کرایہ اس لحاظ سے زیادہ نہیں کیونکہ عمان سے بغداد تک ریگستانی شاہراہ راہ زنوں اور حملوں کی وجہ سے بے حد خطرناک تصور کی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||