’ڈیڑھ سو ہلاک، چھ سو زخمی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روسی جمہوریۂ شمالی اوسٹیا کے سکول میں تین دن سے یرغمال بنائے جانیوالے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو رہا کرانے کی فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونیوالوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد بتائی جارہی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ اس کارروائی کے دوران لگ بھگ ساڑھے چھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بیشتر بچے ہیں۔ شمالی اوسٹیا کے شہر بیسلان میں جہاں یہ سکول واقع ہے، حالات ابھی واضح نہیں ہیں اور کچھ بچے ابھی حملہ آوروں کے قبضے میں ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق روسی فوجی ان بچوں کو چھڑا نے کے لئے ابھی بھی فائرنگ کررہے ہیں۔ ایک برطانوی ٹیلی وژن کے صحافی کا کہنا ہے کہ جب اس کا فوٹوگرافر عمارت کے اندر گیا تو اس نے ایک سو کے قریب لاشیں بکھری پڑی دیکھی۔ اس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا کہ حملہ آوروں نے بم دھماکے کیے تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روسی فوج نےبڑی تعداد میں لاشیں عمارت سے باہر نکالی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعہ کی شام تک ہلاک ہونیوالوں میں سے صرف ساٹھ لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکی تھی۔ روسی خبررساں ادارے ایتار تاس کے مطابق زخمی بچوں کی تعداد دوسو ستائیس ہے اور مزید چار سو سے زائد افراد زخمی حالت میں ہسپتال میں لائےگئے ہیں۔ سینکڑوں بچے رہا ہوئے ہیں اور ان میں سے متعدد کی حال نازک بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل بی بی سی کی نامہ نگار سارہ رینزفورڈ نے بتایا تھا کہ کم سے کم ڈیڑھ سو بچوں کو علاج کے لئے ہسپتال لایا گیا ہے۔ روسی فوج نے سکول کے پاس ہی ہنگامی ہسپتال قائم کیا ہے اور سینکڑوں والدین پریشانی کی حالت میں اپنے عزیزوں کے بارے میں جاننے کے لئے بیقرار ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طبی اہلکار زخمیوں کو ہسپتال کے اندر لے جارہے ہیں، جن میں بیشتر بچے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمارت سے باہر نکالے جانیوالے یرغمالیوں کی حالت بہت خراب تھی اور وہ پینے کا پانی مانگ رہے تھے، لڑکھڑا رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز ہونے والی کارروائی میں افراتفری کے عالم میں کم سے کم تیرہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے جبکہ دس حملہ آور مارے گئے۔ حملہ آوروں نے سینکڑوں بچوں اور بڑوں کو بدھ کے روز سے سکول میں یرغمال بنایا ہوا تھا اور مطالبہ کررہے تھے کہ روس اپنی افواج چیچنیا سے ہٹا لے اور روسی جیل میں قید ان کے ساتھیوں کو رہا کرے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ حملہ آور سکول سے فرار ہوکر قریب کی ایک عمارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور روسی فوج نے ان کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ فوجی آپریشن کے آغاز کے بارے میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایک شخص جو عمارت کے اندر گیا تھا اس نے بتایا کہ ایک دھماکہ ہوا تھا اور عمارت کی ایک دیوار گرگئی جس کے بعد فائرنگ ہوئی اور کئی دھماکے ہوئے۔ بعض اطلاعات کے مطابق روسی فوج نے عمارت کی چھت کو بھی اڑا دیا۔ ادھر روس کی فیڈرل سیکیورٹی سروس آر ایف ایس کے سربراہ نے بتایا ہے کہ حکام نے سکول پر فوجی آپریشن کرنے کا منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا روسی حکام حملہ آوروں سے مزید مذاکرات کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ آر ایف ایس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فوج کو کارروائی اس لئے کرنی پڑی کیونکہ حملہ آوروں نے یرغمالیوں پر فائرنگ شروع کردی تھی۔انہوں نے کہا کہ یرغمالی فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے کیونکہ دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ امریکہ نے شمالی اوسٹیا میں یرغمال بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’وحشیانہ فعل‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت روس کے ساتھ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||