غیر قانونی ورکر نکالنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے دس لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کو نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اگرچہ ملائشیا کے وزیر داخلہ اعظمی خالد نے یہ نہیں بتایا کہ غیر قانونی کارکنوں کو کب نکالا جائے گا لیکن انہوں نے بتایا کہ یہ کام نئے مائیکرو چپ قومی شاختی کارڈ متعارف کرائے جانے سے پہلے مکمل ہو جائے گا۔ انہوں اس حکومتی اقدام کی کوئی وجہ نہیں بتائی مگر کوالالمپور میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ دارالحکومت میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرع کے بارے میں پائی جانے والی تشویش ہے۔ وزیر داخلہ عظمی خالد کے مطابق اس حکومتی مہم کو کامیاب بنانے کے لئے ساڑھے چار لاکھ رضاکاروں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ دو سال پہلے بھی ملائشیا کی حکومت نے اسی نوعیت کی ایک مہم شروع کی تھی جس کے نتیجے میں غیرملکی کارکن بڑی تعداد میں ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور بندرگاہوں اورہوائی اڈوں پر کافی رش دیکھنے میں آیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||