| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا میں فوج کی موج
کوئی بھی فوج اسی وقت ہی مارچ کر سکتی ہے جب اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو۔ یہ مقولہ نپولین بوناپارٹ کا ہے جو ان کی زبان سے مدتوں پہلے ادا ہوا تھا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ عہدِ قدیم کے اس مقولے میں جیسے پھر جان سی پڑ گئی ہو کیونکہ ملائشیا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو دن میں چھ مرتبہ کھانا دیا کرے گی۔ اس فیصلے کا اعلان ملک کے وزیرِ دفاع نے ملائشیا کی فوج کو دیے جانے والے کھانے کے معمول پر غور و فکر کے بعد کیا ہے۔ ملائشیا میں کھانا پینا قومی خبط ہے لیکن وہاں کی فوج کے لئے کھانے کے اوقات میں اضافے پر تو نیپولین کی روح بھی حیران ہو جائے گی کہ اتنے کھانا کھانے کے بعد وہاں کی فوج کو مارچ کرنے کے لئے وقت کہاں ملے گا۔ دس برس میں ملائشیا کی فوج کے کھانے کے معمول میں یہ نظرِ ثانی پہلی بار کی جا رہی ہے۔ اور حکومت کو نظرِ ثانی کے بعد ہی یہ معلوم ہوا کہ فوج کو اور کھانا چاہیئے۔ فی الحال فوج کو ناشتہ، دوپہر کاکھانا اور رات کا کھانا ملتا ہے جبکہ دن میں تین مرتبہ انہیں ناشتے اور دوپہر اور رات کے کھانے کے درمیان ہلکی پھلکی دوسری چیزیں بھی دی جاتی ہیں۔ تاہم جنوری سے انہیں ہلکی پھلکی چیزوں کی جگہ مکمل کھانا ملا کرے گا۔ ملائشیا کے وزیرِ دفاع نجیب رزاق کا کہنا ہے کہ مستقبل میں فوجیوں کو ہلکی پھلکی چیزوں کی جگہ بریانی ،چپاتی یا ایسی ہی کوئی دوسری چیز دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ فوجیوں کو چائینیز یا تھائی فوڈ بھی دیا جائے۔ ملائشیا کی فوج میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار ہے لہذا فوج کو جو بھی کھانا ملے گا اس کا فوجیوں کے لئے اسلامی نقطۂ نگاہ سے قابلِ قبول ہونا لازمی ہوگا۔ لیکن وزیرِ دفاع نے از راہِ مذاق اپنے فوجیوں سے یہ بھی کہا کہ ان کا کھانا تو بڑھ رہا ہے لیکن وہ خیال رکھیں کہ کہیں ان کی توند نہ بڑھ جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||