| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملائشیا: چست لباس پر پابندی
ملائشیا کے شہرکوالا تیرنگانو کی مقامی حکومت نے نئے قوانین منظور کئے ہیں جن کے تحت غیر مسلم خواتین کے لیے کام کے دوران لباس پہننے کے قوائد وضع کئے گئے ہیں۔ ان قوانین کے تحت غیر مسلم خواتین پربھی کام کے دوران چست لباس پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ملائشیا میں حزب اختلاف کی اسلامی جماعت یہ دعوی کرتی رہی ہے کہ وہ ان علاقوں جہاں اسے اقتدار حاصل ہو جائے گا غیر مسلموں کی اقدار کی پاسداری کرے گی اور ان پر اسلامی روایات نہیں ٹھونسی جائیں گی۔ تاہم کوالا تیرنگانو میں نئے قوانین کے منظور کئے جانے سے ان کے ان دعوؤں کی نفی ہوئی ہے۔ ان قوانین کے تحت غیر مسلم خواتین پر چشت جینز ، آدھے اور بغیر بازؤں کے بلاؤز اور اسکرٹ پہننے پر پابندی ہوگی۔ مسلمان خواتین کو حجاب پہننا ضروری ہو گا۔ ان قوانین کے تحت روائتی ملائشیائی حجاب پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس کی جگہ سر سے منڈھا ہوا حجاب رائج کر دیا گیاہے۔ اسلامی جماعت کے اس اقدام کا حکمران جماعت آئندہ عام انتخابات میں بھر پور سیاسی فائدہ اٹھائے گی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ اسلامی جماعت شخصی آزادیوں کی قائل نہیں ہے۔ ملائشیاء کی تقریباً نصف آبادی غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔ اسلامی جماعت نےان علاقوں میں جہاں وہ اکثریت میں ہے دوہرے قوانین وضع کئے ہیں اور مسلمانوں کے لیے لیے حدود قوانین نافذ کر دئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ناچ گانے اور سنکور کلبوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان تمام جگہوں پر جہاں شراب فروخت کی جاتی ہے مسلمانوں کے جانےپر پابندی ہو گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||