عراقی ملیشیا کے خاتمہ پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں عبوری حکومت کے سربراہ ایاد علاوی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت میں شامل نو سیاسی گروپوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ ان کے مسلح دھڑے یا تو ہتھیار چھوڑ دیں گے یا پھر عراقی سکیورٹی فورسز میں شامل ہو جائیں گے۔ یہ سیاسی تنظیمیں عبوری کابینہ میں بھی شامل ہیں۔ مسٹر علاوی نے کہا کہ ان مسلح دھڑوں کے جو ارکان سکیورٹی میں شامل نہیں ہوں گے وہ اگلے سال انتخابات تک بطور عام شہری زندگی گزارنا شروع کر دیں گے۔ ان جنگجوؤں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے جس میں شمالی عراق کے دو کرد گروہ اور شیعہ بدر بریگیڈ شامل ہے۔ تاہم اس سمجھوتے میں امریکی اتحادی فوجوں پر حملے کرنے والے شیعہ رہنما مقتدٰی صدر کے حامی شامل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی عراق کے شہر فلوجہ اور دوسرے علاقوں میں موجود سنّی مزاحمت کار بھی اس معاہدہ کا حصہ نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||