’نفع بخش اداروں کی نج کاری نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کانگریس کی نئی مخلوط حکومت نے جسے اہم کمیونسٹ جماعتوں کی حمایت حاصل ہے اپنی پیشرو حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی نج کاری کی پالیسی ترک کردی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ نفع بخش تجارتی ادارے حکومت کی تحویل میں ہی رہیں گے- البتہ نقصان میں چلنے والی کمپنیوں کے بارے میں انفرادی سطح پر فیصلے کیے جائیں گے- تیل، بجلی اور بھاری انجینیرنگ جیسی منافع کمانے والی صنعتیں نجی شعبے میں دینے کا منصوبہ سابق حکمران جماعت کے اقتصادی پروگرام کا مرکزی حصہ تھا- گزشتہ ہفتے بی جے پی کی اقتصادی اصلاحات کا رخ موڑ دیے جانے کے اندیشوں میں حصص بازار کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک نیچے گرگئی تھیں- جبکہ معاشی اصلاحات کا عمل سسُت ہونے کے خدشات کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں نے بھی اپنے شئیرز فروخت کر دئیے جن کے مالیت 800 ملین ڈالر ہے- حکومت ملکی پیداوار کی چھ فیصد آمدنی تعلیم کی مد میں اور تیل و توانائی کے شعبے میں بیرونی سرمایہ کی حوصلہ افزائی پر خرچ کرنا چاہتی ہے- سالانہ پیداوار میں سات سے آٹھ فیصد اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے- تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت نے جس اقتصادی خاکے کا اعلان کیا ہے -اُس سے ملکی خزانے پر بوجھ بڑھے گا- ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئی حکومت کی اصل آزمائش ٹیکسوں اور اخراجات کے درمیان توازن ہوگا- جس کا بجٹ میں اعلان کیا جائیگا۔ بہرحال غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے یہ باعثِ اطمینان ہے کہ ملک کے نئے وزیراعظم من موہن سنگھ کو بھارت میں انیس سو نوے کے عشرے میں کامیاب اقتصادی اصلاحات کا معمار سمجھا جاتا تھا- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||