لوک سبھا کا کیمونسٹ سپیکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیمونسٹ پارٹی آف آنڈیا نے لوک سبھا کے سپیکر کا عہدہ قبول کرلیا ہے اور کہا ہے کہ یہ پیشکش اس نے سیکولر اتحاد کی حکومت کا حصہ ہونے کی ’ علامت‘ کے طور پر قبول کی ہے۔ کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا نے اعلان کیا ہے کہ سومنات چٹرجی جو ایک ماہر پارلیمنٹرین ہیں، لوک سبھا کے سپیکر کے عہدے کے امیدوار ہوں گے۔ سومنات چٹرجی دس بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ سی پی آئی کے ایک ممبر نے منگل کو کلکتہ میں کہا کہ پارٹی کی پولٹ بیورو نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سومنات چٹر جی لوک سبھا کے سپیکر کے امیدوار ہوں گے۔ مغربی بنگال میں کامیابیوں کے باوجود کیمونسٹ ہمیشہ سے مرکز میں حکومت سازی کے عمل سے دور رہے ہیں۔ سی پی آئی کا حکومت میں شامل نہ ہونے کے فیصلے کی وجہ سے بی جے پی اور دوسری جماعتیں کہہ رہی تھیں کہ کچھ ہی عرصے بعد سی پی آئی سیکولر اتحاد کی حما یت سے دستبردار ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ہی حکومت بھی ختم ہو جائے گی کیونکہ ان کا موجودہ حکومت سے کوئی بھی مفاد وابستہ نہیں ہو گا۔ موجودہ انتخابات میں سی پی ایم نے تینتالیس نشستیں حاصل کی ہیں اور تیسری بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔ پچھتر سالہ سومنات چٹرجی 1968 سے سی پی آئی کے ممبر ہے۔وہ سیاست دان کے علاوہ ملک کے مشہور وکیل بھی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سی پی آئی نے سپیکر کا عہدہ قبول کر کے ان خدشات کو دور کر دیا ہے کہ وہ جلد ہی سیکولر اتحاد کی حکومت کی حمایت ختم کر دے گی۔ کیمونسٹ جماعتیں اب تک صرف مغربی بنگال، تریپورہ اور کیرالہ تک محدود ہیں۔ موجودہ انتخابات میں سی پی ایم اور سی پی آئی نے کل ملا کر ایک سو تین نشستوں پر الیکشن لڑا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||