امریکہ و برطانیہ، عراق پر اختلافات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں تیس جون کے بعد نئی عراقی عبوری حکومت کو کنٹرول سونپے جانے کے بعد امریکی و برطانوی فوج میں سے کس کو مقبوضہ علاقوں میں کنٹرول حاصل ہوگا، اس سلسلے میں امریکہ و برطانیہ میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔ برطانیہ کے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ عراق کی نئی عبوری حکومت کو بیرونی افواج پر پورا سیاسی کنٹرول حاصل ہوگا۔ لندن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ اگر مستقبل میں کبھی امریکی و برطانوی فوج کو فلوجہ جیسے شہر میں داخل ہونا پڑا تو اس سلسلے میں عراقی حکومت کی منظوری ضروری ہوگی۔ لیکن امریکہ کے وزیر خارجہ کولن پاول کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ عراق کی نئی حکومت سے مشورہ نہیں کر لیتا تب تک امریکی فوج اپنے اعلیٰ حکام کی ہدایات پر عمل کریں گی۔ وزیر خارجہ کولن پاول نے مزید کہا ہے کہ امریکی فوج خود کو محفوظ رکھنے کے لیے وہی کریں گی جو مناسب ہوگا۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے ایک نمائندہ کا کہنا ہے کہ اِن دونوں شخصیات کے بیانات سے یہ بات ظاہر نہیں ہوتا کہ عراقی حکومت کو کس حد تک اختیارات حاصل ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||