افغان قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں قیدیوں پر ٹارچر کے الزامات کے بعد امریکہ نے افغان جیلوں اور حراستی مرکزوں میں قیدیوں کی حالت زار کا مفصل جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل ٹکر منساجر کا کہنا ہے کہ افغان سر زمین پر موجود بیس جیلوں اور حراستی مراکز کا دورہ کرنے کے لئے ایک امریکی جنرل کو جلد کی مقرر کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق امریکی جنرل تمام افغان جیلوں اور حراستی مراکز کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ افغانستان میں روسی فوج کے کمانڈر لیفٹینٹ جنرل ڈیوڈ بارنو کو جون کے وسط تک پیش کر دے گا۔ انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے تنظیموں نے افغانستان میں موجود امریکی فوج پر الزام لگایا تھا کہ وہ قیدیوں پر وسیع پیمانے پر ٹارچر کر رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق امریکی جنرل کی رپورٹ کے کچھ حصوں کو شائع کیا جائے گا۔ افغان جیلوں میں بند قیدیوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کا فیصلہ ایک سابق پولیس افسر سید نبی صدیقی کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ گردیز میں امریکی اڈے پر حراست کے دوران انہیں جنسی تشدد، تحقیر اور بے خوابی جیسی بدسلوکیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||