قدم بہ قدم یروشلم کی طرف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے جنگجو گروہ حزب اللہ کے سیٹلایٹ ٹیلیوژن چینل ’المنار‘ سے نشر ہونے والے ایک ’گیم شو ‘ نے ایک نئے تنازعے کو جنم دیا ہے۔ ’دی مشن‘ نامی اس پروگرام میں شرکاء سوالات کے درست جواب دے کر ایک فرضی نقشے پر قدم بہ قدم یروشلم کی طرف بڑھتے ہیں۔ ان سوالات میں انقلاب ِ فرانس سے لے کر خودکش حملوں تک کے بارے میں سوالات شامل ہوتے ہیں۔ نیو یارک ٹایمز کے مطابق مختلف حلقوں کی طرف سے اس ٹی وی شو پر پراپیگینڈے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایک امریکی سرکاری عہدے دار کے بقول یہ پروگرام تشدد کی ترویج کر رہا ہے۔ انہوں نے اس پروگرام کو ’اپنے پسندیدہ دہشت گرد کا نام بتاؤ‘ کا نام دیا۔ امریکہ حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم گردانتا ہے اور اس نے المنار کے پروگرام کو یہودیوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ لیکن المنار کے ترجمان ابراھیم مساوی نے کہا ہے کہ پروگرام کا مقصد ایسے انداز میں اپنا پیغام پیش کرنا ہے جس کے ذریعے عوام کے وسیع طبقات تک رسائی حاصل کی جا سکے اور یہ ہلکے پھلکے کھیل کے انداز میں ہی ممکن ہے۔ اس پروگرام میں جیتنے والے کو انعام میں تین ہزار ڈالرز دیئے جاتے ہیں۔ اگر مقابلے میں شرکت کرنے والا جوابات کے ذریعے یروشلم پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پروگرام میں حزب اللہ کا مقبول گانا ’یروشلم ہمارا ہے اور ہم وہاں آرہے ہیں‘ چلایا جاتا ہے۔ حزب اللہ اسی کی دہائی کے اوائل میں منظر ِعام پر آئی اور دیکھتے ہی دیکھتے علاقے کی سب سے بڑی اسلامی تحریک بن گئی۔ حزب اللہ کا بنیادی مقصد لبنان سے اسرائیلی فوجوں کا انخلاء تھا لیکن سن دو ہزار میں اسرائیلی فوجوں کے انخلاء کے بعد اس نے اپنی توجہ فلسطین تحریک پر مبذول کر لی۔ اس وقت حزب اللہ لبنان کی ایک سیاسی پارٹی کے طور پر کام کر رہی ہے اور اس کے پانچ ارکان ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||