| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
غرب اردن میں تین ہلاک
اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے شہر نابلس میں پندرہ سالہ نوجوان سمیت تین افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے ان افراد کو اسرائیلی فوجیوں نے اس لیے گولیوں کا نشانہ بنایا کے انہوں نے اس کرفیو کی خلاف ورزی کی تھی جسے غربِ اردن میں اسرائیلی افواج نے ایک ہفتے سے زائد عرصے سے نافذ کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے گولیاں اپنے دفاع میں چلائیں۔ نابلس پر اسرائیلی فوج نے حال ہی میں کئی بار حملے کیے اور چھاپے مارے ہیں اور اس کا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ان حملوں اور حملہ آوروں کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو اسرائیل پر حملوں کی منصوبہ بندی کر سکتے ہوں۔ مذکورہ بالا تینوں ہلاکتیں دو مختلف واقعات میں ہوئی ہیں۔ پندرہ سالہ امجد المصری اس وقت سینے میں لگنے والی گولیوں سے ہلاک ہوا جب اسرائیلی فوج نے اس ہجوم پر گولی چلا دی جو اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔ ایک اور فلسطینی بھی اسی کارروائی کے دوران کے ہلاک ہوا۔ یہ فلسطینی گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا تھا اور جب تک اسے اسپتال منتقل کیا گیا وہ جان سے جا چکا تھا۔ ایک فلسطینی کو اسرائیلی فوج کے مطابق اس لیے ہلاک کیا گیا کہ اس نے ایک بھاری پتھر اسرائیلی فوج پر پھینکا تھا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ’شدید خطرے‘ میں محسوس کرتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||