| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل و لبنان: قیدیوں کا تبادلہ
اسرائیلی کابینہ نے محض ایک ووٹ کی اکثریت سے لبنان کی شدت پسند تنظیم حزب اللہ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی منظوری دی ہے۔ اسرائیلی ٹیلی ویژن کا کہنا ہے کہ کابینہ کے گیارہ ارکان نے لبنان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی مخالفت کی جب کے بارہ ارکان نے تبادلے کی حمایت میں ووٹ دیا۔ اس تبادلے کے نتیجے میں اسرائیل لبنان سے تعلق رکھنے والے بیس قیدیوں اور چار سو فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ شدت پسند حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے اس اقدام کے جواب میں اسرائیل کے اس تاجر کو رہا کیا جائے گا جو حزب اللہ کے شدت پسندوں کے پاس یرغمال ہے۔ اس کے علاوہ حزب اللہ اسرائیل کے ان تین فوجیوں کی لاشیں بھی واپس کرے گی جو تین سال قبل سرحدی جھڑپوں کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کابینہ کے فیصلے کے باوجود قیدیوں کا تبادلہ ابھی تک یقینی ہونے کے مرحلے سے بہت دور ہے کیونکہ کابینہ نہیں چاہتی کہ ان لبنانیوں اور فلسطینیوں کو رہا کیا جائے جو اسرائیلیوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔ کابینہ خاص طور پر حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ کی رہا ئی کی مخالف ہے۔ تاہم حزب اللہ تمام لبنانی قیدیوں کی رہائی کے بغیر کسی مفاہمت پر تیار نہیں۔ اس سے ایک بار پہلے بھی جب قیدیوں کے تبادلے پر حزب اللہ اور اسرائیلی حکام کے درمیان مفاہمت ہونے والی تھی تو اچانک جھڑپیں شروع ہو گئیں جس کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے ان سرحدی علاقوں پر حملے کیے جنہیں حزب اللہ کے ٹھکانے خیال کیا جتاتا ہے۔ ان جھڑپوں کے باوجود اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تاہم اسرائیل کے لیے سب سے اہم کابینہ کی منظوری حاصل کرنا تھا جو اب حاصل ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||