عراق میں اطالوی یرغمالی کا قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عربی ٹی وی چینل الجزیرہ نے کہا ہے کہ عراق میں یرغمال بنائے گئے چار اطالوی شہریوں میں سے ایک کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق اغوا کرنے والوں کا کہنا تھا کہ چونکہ اٹلی کی حکومت نے اپنے فوجی عراق سے واپس بلانے سے انکار کر دیا تھا اس لئے اس کے شہری کو ہلاک کیا گیا ہے۔ اطالوی حکام کا پہلے کہنا تھا کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں لیکن تازہ ترین خبروں کے مطابق انہوں نے بھی اب اس کی تصدیق کردی ہے کہ ان کا ایک شہری عراق میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ تصدیق اطالوی وزیرخارجہ فرینکو فرتینی نے کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ ایک یرغمالی کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔‘ اطالوی وزیر خارجہ کے اس بیان کے فوراً بعد جاری کیے جانے والے بیان میں اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی نے کہا ہے کہ ’عراق میں ایک یرغمالی کی ہلاکت سے عراق میں ان کے بقول ان کا قیامِ امن کا عزم متاثر نہیں ہو گا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||