برطانیہ: مشتبہ افراد چھاپوں میں گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی برطانیہ سے کئی پولیس چھاپوں کے دوران آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ منگل کی صبح چوبیس مقامات پر مارے گئے ان چھاپوں میں سات سو پولیس افسر شامل تھے۔ حراست میں لئے گئے ان افراد کی عمریں سترہ سے بتیس برس کے درمیان ہیں اور خیال ہے کہ یہ سبھی پاکستانی نژاد مسلمان ہیں۔ اس کارروائی کے دوران مغربی لندن کے ایک گودام سے نصف ٹن سے زائد امونیئم نائٹریٹ بھی برآمد کی گئی ہے۔ بی بی سی کے سیکیورٹی سے متعلق نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق برآمد کی جانے والی امونیئم نائٹریٹ کی یہ مقدار خاصی بڑی ہے اور بقول نامہ نگار یہ وہی مواد ہے جو بالی بم دھماکوں میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ امونیئم نائٹریٹ 1995 کی اوکلاہوما بمباری اور 1998 کے نیروبی میں امریکی سفارت خانے پر القاعدہ کے حملوں کے دوران بھی استعمال ہوا تھا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیرررسٹ برانچ کے سربراہ کے مطابق یہ کارروائی سن دو ہزار میں دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے وضع کئے گئے قانون کے تحت کی گئی ہے۔
یہ چھاپے اکسبرج، الفورڈ، کولنڈیل، مغربی سسیکس، سلاؤ اور ریڈنگ میں مارے گئے تھے۔ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیرررسٹ برانچ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تمام علاقوں کی چھان بین اب بھی جاری ہے اورہ ’ہم نے ان تمام علاقوں میں بسنے والے مسلمانوں کو یقین دلایا ہے کہ ہمیں ان کے قانون کی پابندی کرنے اور ایک وفادار شہری ہونے پر کوئی شبہ نہیں ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||