ہرات میں جھڑپیں، درجنوں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صوبہ ہرات میں صوبائی گورنر اسمعیل خان کے بیٹے اور سیاحت اور قومی ہوا بازی کے وزیر میر واعظ صادق خان کی ہلاکت کے بعد شہر میں جھڑپیں شروع ہوگئیں جن میں اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عمر صمد کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الوقت جھڑپیں بند ہوگئیں ہیں تاہم صورتحال کشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کے لئے افغان حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ہرات جا رہا ہے۔ اتوار کے روز میر واعظ اس وقت ہلاک ہوگئے جب ایک مقامی کماندار ظاہر نائب زادہ کے وفادار سپاہیوں نے ان کی کار پر گرینیڈ پھینکے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مذکورہ کمانڈر نے اس بتایا کہ میر واعظ نے انہیں ان کے منصب سے سبکدوش کرنے کی کوشش کی تھی۔ دوسرے خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق نائب زادہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دفاع میں کارروائی کی ہے۔ اس کے بعد شہر میں قائم فوجی بیریکوں پر قبضہ کے لئے متحارب گروہوں میں شدید جھڑپیں شروع ہوگئیں جن میں ٹینکوں اور راکٹوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ نائب زادہ نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ طرفین کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور ان کے اندازے کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریباً ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں تاہم وہ درست تعداد بتانے سے قاصر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق میر واعظ کے والد اور صوبائی گورنر اسمعیل خان پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تاہم وہ بچ گئے۔ البتہ سرکاری طور پر اس کی تردید کی گئی ہے۔ اس سے قبل فروری سن دوہزار دو میں افغان ہوابازی کے وزیر عبدالرحمان کو بھی بظاہر عازمین حج نے طیش میں آنے کے بعد زد و کوب کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد جولائی دوہزار دو میں نائب صدر اور تعمیرات کے وزیر حاجی عبدالقدیر کو ان کے دفتر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ سال فروری میں وزیر پیٹرولیم اور معدنیات جمعہ محمد محمدی پاکستانی سرحد کے قریب فضائی حادثہ میں ہلاک ہوگئے تھے۔ دریں اثناء افغانستان سے یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہاں نیٹو کی امن فوج کی مدد سے کابل کی پولیس نے بم بنانے والے ایک کارخانے پر چھاپہ مار کر ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ نیٹو کے کمانڈر کرس ہینڈرسن نے بتایا کہ کارخانے سے جو دھماکہ خیز مواد ملا ہے اس سے بیس بم بنائے جا سکتے ہیں۔ کارخانے پر چھاپہ جمعہ کی صبح مارا گیا تھا۔ حکام کے مطابق برآمد شدہ چیزوں میں ایسے آلات ملے ہیں جن کی مدد سے بم کو کسی خاص وقت پر چلایا جا سکتا ہے۔ حراست میں لئے گئے شخص کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔اس چھاپے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اے ایف پی کے مطابق نیٹو کی فوج کو کارخانے کی اطلاع ’افغان وزارتِ دفاع کے باخبر ذرائع‘ سے ملی تھی۔ اے پی کے مطابق کارخانے سےوہاں موجود شخص کو کابل شہر کی پولیس نے گرفتار کیا جبکہ بین الاقوامی فوج نے اس پہاڑی کے ارد گرد حصار بنایا جس کے قریب یہ کارخانہ واقع تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||