’اسامہ کی گرفتاری کی جلدامیدنہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے اسامہ بن لادن کے جلد گرفتاری کی امیدوں کو کم اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ القاعدہ کے رہنما کب تک پکڑے جائیں گے۔ مسٹر رمزفیلڈ نے یہ بات افغانستان کے دورے کے دوران افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے بعد کہی۔ مسٹر رمزفیلڈ نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں اور وہ مستقبل میں کسی وقت پکڑے جا سکتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایسا جب تک ہو پائے گا۔ پچھلے مہینے افغانستان میں امریکی کمانڈر ڈیوڈ بارنو نے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن اس سال کے آخر تک پکڑے جا سکتے ہیں۔ مسٹر رمزفیلڈ کی افغانستان آمد سے قبل کابل کے نزدیک شدت پسندوں نے گھات لگا کر افغان امدادی کارکنوں کی ایک گاڑی پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ امدادی کارکن ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔ ایک کارکن ابھی تک لاپتہ ہے۔ قندھار میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے امریکہ کے لیئے افغانستان ابھی بھی خارجہ پالیسی میں اہمیت رکھتا ہے کیونکہ وہاں اتحادی فوجی القاعدہ اور طالبان کے حامیوں کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ سلامتی کا مسئلہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ آئے دن سدت پسند امدادی کارکنوں اور غیر ملکیوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ اس سال ابھی تک ایک سو سے زیادہ افراد اس قسم کی شدت پسند کارروائیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر طالبان شدت پسندوں نے کی ہیں۔ امریکی وزیرِ دفاع نے اپنے دورے کا آغاز طالبان انتظامیہ کے گڑھ قندھار پہنچ کر کیا جہاں انہوں نے اتحادی فوج کے کمانڈر سے ملاقات کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||