شادی مگر نانی سے! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ایک نواسے نےعمر رسیدہ نانی کی خدمت کرنے کے لۓ انہی سے شادی کر لی ہے۔ پچیس برس کے نارائن بسواس نے اپنی اسی برس کی نانی سے ہندو رسم و رواج کے مطابق کلکتہ سے ایک سو کلو میٹر دور گزشتہ ہفتے اپنے گاؤں میں شادی کر لی ہے۔ نارائن کا کہنا ہے کہ اس نے یہ رشتہ اپنی نانی کی خدمت کرنے کے لۓ جوڑا ہے۔ نارائن کی گزر بسر کا دارومدار اس کی نانی کی ملکیت والے چاول کے کھیتوں اور جزوقتی طور پر پڑھانے پر ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنی نانی کی بہتر خدمت ایک نواسے سے زیادہ بحیثیت ایک شوہر کے کر سکتا ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ وہ اس رشتے سے اپنی نانی کے کشادہ گھر اور ان کے پانچ ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے چاول کے کھیتوں کو ہتھیانےکا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ہے۔ نارائن کے پڑوسیوں نے اس پر الزام لگاتے ہوۓ کہا ہے کہ اس طرح وہ اپنے باقی چار بہن بھائیوں کو جائداد سے بے دخل کر کے تمام جائداد کا اکیلا وارث بننا چاہتا ہے۔ نارائن کی نانی یعنی پریمودہ کے سابق شوہر اور نارائن کے نانا کا انتقال تیس برس پہلے ہو گیا تھا اور نارائن کے ماں باپ تو اس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ نارائن اور اس کی نانی کی اس انوکھی شادی سے پورا گاؤں ششدر ہے کیونکہ خونی رشتوں میں شادی کرنا ہندو میرج ایکٹ یا ہندو شادی کے قوانین کے خلاف ہے۔ لیکن مقامی حکام نے اس شادی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ ریاست مغربی بنگال میں انوکھی شادی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس جون میں ایک نو برس کی بچی کی ایک کتے سے صرف اس لۓ شادی کی گئی تھی کیونکہ پنڈت کا کہنا تھا کہ اس طرح پورے خاندان پر سے شیطانی غلبے ختم کۓ جا سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||