’ کشمیر مذاکرات جاری رہیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کسشمیر میں علیحدگی پسندوں کے اتحاد کا اعتدال پسند دھڑا بھارت کے ساتھ مزید مذاکرات کے لئے تیار ہے ۔ آل پارٹی حریت کانفرنس کے اراکان نے جنوری میں نائب وزیرِاعظم لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کی تھی لیکن اس وقت انہوں نے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور غیر منصفانہ گرفتاریوں کے مسئلہ پر مذاکرات کا سلسلہ منقطع کرنے کی ددھمکی دی تھی۔ اس دھڑے کے رہنما مولوی عباس انصاری نے بتایا کہ انہیں لال کرشن اڈوانی کی جانب سے ستائیس مارچ کو مزاکرات کا دعوت نامہ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت نے مزاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم انتخابی مہم کے اپنے ملک گیر دورے میں سے ان مذاکرات کے لئے وقت نکال رہے ہیں ۔حریت کے اعتدال پسند رہنماؤں نے ان مذاکرات سے باہر نکلنے کی دھمکی دی تھی۔ عباس انصاری نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کشمیر میں انسانی حقوق کی حفاظت اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے اپنے وعدوں کو پورا نہیں کیا۔ فروری میں حریت کے ایک اور رہنما فضل حق قریشی نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کے پیشِ نظر مذاکرات سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||