| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حریت: مذاکرات کے لیے کمیٹی
کشمیر میں حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے نے بھارت کے ساتھ اسی ماہ شروع ہونے والے مذاکرات کے لئے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کو کمشیری رہنماؤں پر اسکی مرضی مسلط کرنے نہیں دی جائےگی۔ مولوی عباس انصاری کی قیادت والی حریت کانفرنس نے بھارتی وزیر اعظم ایل کے اڈوانی کے ساتھ بائیس جنوری کو مجوزہ مذاکرات کے لئے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دی ہے۔ مولوی عباس کے علاوہ اس ٹیم میں مولوی عمر فاروق، عبدالغنی بھٹ، بلال لون اور فضل حق قریشی شامل ہیں۔ سری نگر میں حریت کانفرنس (اے) کے اجلاس کے بعد سینیئر لیڈر عبدالغنی بھٹ نے بی بی سی کو بتایا ان کے ساتھی شدت پسندوں کی دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند معصوم لوگ ہیں اور کبھی کبھی وہ جذبات میں بہہ جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں عقل آجائے گی انہیں احساس ہوگا کہ مسئلوں کے حل کے لئے مذاکرات ضروری ہیں۔ مسٹر بھٹ نے کہا کہ حریت کانفرنس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر جانا چاہتی ہے تاکہ وہاں موجود شدت پسند رہنماؤں کو مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کے لئے مائل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے لئے بھارتی حکومت سے بات کی جائے گی۔ پروفیسر بھٹ نے زور دیا کہ حریت کانفرنس بھارت اور پاکستان دونوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ تاہم انہوں نے پاکستان کو خبردار کیا کہ کشمیری رہنماؤں پر اس کی مرضی مسلط نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی اکثریت ان کی جماعت کے بھارتی قیادت سے بات کرنے کے فیصلے کے حق میں ہے۔ سری نگر میں حریت کے عباس دھڑے کے اس اجلاس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور جماعت اسلامی کو بھی شرکت کی دعوت دے دی گئی تھی تاہم وہ نہیں آئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||