امریکی فوجی: عراق نہیں جانا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق واپس نہ جانے والے ایک امریکی فوجی پر ممکن ہے کہ روگردانی کا مقدمہ کیا جاۓ گا۔ فلوریڈا نیشنل گارڈ کے سٹاف سارجنٹ کمیلو میجیا نے واپس عراق جا کر اپنے فوجی فرائض انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔ میجیا کے بقول ’یہ جنگ تیل کے لۓ لڑی جانے والی جنگ ہے اور میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی فوجی تیل حاصل کرنے کے لۓ بھرتی ہوتا ہے‘۔ انہوں نے اخباری رپورٹروں سے بات چیت کے دوران بتایا کہ ایک واقعے نے انہیں سخت پریشان کر دیا تھا جب ایک جھڑپ کے دوران ان کے یونٹ نے کئی معصوم شہریوں کو گولیوں کے تبادلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ فی الحال عراق میں کام کر رہے دو امریکی ڈاکٹروں نے بھی ’محتاط معترض‘ بننے کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
فلوریڈا نیشنل گارڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ میجیا کو مفرور کے زمرے میں شمار کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے یونٹ سے تیس دن سے غیر حاضر تھے۔ ترجمان کے مطابق اگر سارجنٹ کمیلو میجیا یونٹ میں حاضر نہیں ہوۓ تو ان کے خلاف یونٹ سے فرار ہونے کے وارنٹ جاری کر دیۓ جائیں گے۔ اس طرح اپنے فرائض سے بغیر اطلاع کے غائب رہنے کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ برس ہے۔ فلوریڈا نیشنل گارڈ وہ امریکی فوجی یونٹ ہے جو جزوقتی طور پر اپنے فوجی خلیجی ممالک بھیجتا رہتا ہے۔ سارجنٹ میجیا نےگزشتہ برس پانچ ماہ تک عراق میں اپنے عسکری فرائض انجام دیۓ تھے۔ اپنی والدہ اور ایک اور ساتھی فوجی کے ہمراہ انہوں نے عراق میں کام کیا تھا لیکن اب ساجنٹ میجیا فلوریڈا میں ہار مان چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||