BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 March, 2004, 14:21 GMT 19:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کربلا اور بغداد کا آنکھوں دیکھا حال
بی بی سی کے نامہ نگار
مشتعل افراد کسی بھی غیر شیعہ پر ٹوٹ پڑنے کو تیار تھے
مسلمانوں کے مقدس یوم عاشور کے موقع پر عراقی شہر بغداد اور کربلا دھماکوں سے گونج اٹھے۔ ان دھماکوں کے بعد بی بی سی کے نامہ نگاروں کی ٹیم وقتاً فوقتاً ان علاقوں سے اپنی رپورٹیں بھیجتی رہی۔ ان کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں تھا۔

کیرولائن ہاؤلی، بغداد

’ہم نے کئی دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ بظاہر یہ دھماکے بغداد کے سب سے اہم مزار پر ہوئے تھے۔ جانی نقصان ہوا تھا تاہم ہمیں صحیح طور پر کچھ معلوم نہیں ہوسکا تھا تاہم اسی وقت کربلا سے بھی دھماکے کی اطلاعات تھیں‘۔

’دھماکے کے دو گھنٹے بعد بغداد کے خادمیہ کے علاقے میں ماحول بہت کشیدہ ہے۔ ہمیں سکیورٹی افواج سے معلوم ہوگیا کہ مزار پر بموں سے حملہ کیا گیا تھا اور مرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ وزیر صحت کے مطابق پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دیگر اطلاعات اٹھہتر افراد کے ہلاک ہونے کی ہیں۔ یہ ایک خوفناک دن تھا‘۔

باربرا پلیٹ، کربلا

’شیعہ یوم عاشور کی رسومات پوری کرنے میں مگن تھے جب یہ دھماکے ہوئے۔ وہاں خون ہی خون تھا۔ زخمیوں کو سامان منتقل کرنے والے چھکڑوں پر لے جایا جارہا تھا۔ ان میں کئی کے بازو یا ٹانگیں ضائع ہوگئی ہیں‘۔

’ لوگ مشتعل تھے کیونکہ ایسے واقعات اس مقدس دن کی روح کے خلاف ہیں۔ ان کے ماتم کرنے میں بھی تیزی آگئی اور وہ ایک ایرانی مشتبہ شخص پر ٹوٹ پڑے۔ اسے بعد میں گرفتار کرلیا گیا۔ پہلے میرا خیال تھا کہ لوگ اسے مار ڈالیں گے۔ یہ لوگ غیر ملکیوں پر بھی برہم تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ دہشتگردی کی کارروائیوں میں بیرونی ہاتھ ہے‘۔

’اس دن کے لئے سکیورٹی کے خاص انتظامات تھے تاہم لوگوں کا اس قدر بڑا اجتماع تھا کہ سب کی چیکنگ کرنا ناممکن تھا‘۔

پال ووڈ، کربلا

’دھماکے کے وقت ہم لوگ ایک عمارت کی چھت پر تھے۔ دھماکے کے ساتھ ہی ہم نے ایک انسانی بازو فضا میں تیس فٹ اوپر بلند ہوتے دیکھا۔ دھماکے کے بعد لوگوں میںں بھگدڑ مچ گئی جس کی عکسبندی نہایت مشکل تھی۔ ہمیں اپنے کیمرے پیچھے رکھنے کی ہدایت دی گئی‘

’ہم نے چھ دھماکے سنے جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمیں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کا اندازہ نہیں تھا۔ کہا جا رہا تھا کہ دھماکے کوڑے کی ٹوکری میں رکھے گئے بم کے پھٹنے سے ہوئے ہیں‘۔

’ایک دھماکہ تو ہم سے دو سو میٹر دور ہوا۔

’ہم نے دیکھا کہ کئی زخمیوں کو لکڑی کے چھکڑوں پر لاد کر لے جایا جارہا تھا۔ ان میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔

واقعے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد لوگ مساجد میں عبادت کے لئے جمع ہوئے۔ شہر میں ان دھماکوں کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں۔ مشتعل افراد کسی بھی غیر شیعہ پر ٹوٹ پڑنے کو تیار تھے۔ ایک اطالوی فوٹو گرافر کو بہت بری طرح مارا پیٹا گیا ‘۔

’دھماکوں کے بعد کچھ شیعہ افراد نے جلوس کو پھر سے منظم کرنے کی کوشش کی لیکن اس بار کم ہی لوگ اس میں شامل ہوئے۔ لوگ منتشر تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح جمع ہونے میں خطرہ ہے۔ شیعہ علماء لاؤڈ سپیکرز پر بار بار یہ اعلان کررہے تھے کہ ایرانی عزا داروں کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں اور خون عطیہ کرنے سے گریز نہ کریں‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد