عراق میں آئینی دستاویز پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی حکمراں کونسل نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے عبوری آئین کے ایک مسودے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یہ اتفاق رائے مسلسل کئی روز کے اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ حکمراں کونسل کے اراکین کے درمیان اسلامی قوانین، کردوں کی آئینی حیثیت اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں اختلاف رائے تھا۔ اس عبوری آئین کے تحت مذہب اسلام کو قانون سازی کا واحد ذریعہ سمجھنے کے بجائے محض ایک ذریعہ سمجھا جائے گا اور کرد اقلیت کو خود مختار حیثیت دی جائے گی۔ دو روز قبل امریکہ کی دی ہوئی وہ مہلت ختم ہوگئی تھی جو آئین کا مسودہ تیار کرنے کے لئے حکمراں کونسل کو دی گئی تھی۔ اس دستاویز کو ’عبوری انتظامیہ کا قانون‘ کا نام دیا گیا ہے اور یہ قانون منظوری کے بعد عراق میں منتخب حکومت کے قیام تک لاگو رہے گا۔ کونسل کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس دستاویز پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لئے تخلیقی صلاحیت کے ساتھ ساتھ زبان کے استعمال کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ احمد چلابی کے ایک ترجمان انتفادہ قندبار کا کہنا ہے کہ مذہب کے معاملے میں ایسی زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو اسلامی تشخص رکھنے والوں کے جذبات کو مجروح نہ کرے اور ساتھ ہی ان لوگوں کاخیال بھی رکھا گیا ہے جو غیر مسلم ہیں۔ قندبار نے مزید کہا کہ اس آئینی مسودے میں وفاقی حکومت کے قیام کی منظوری دی گئی ہے جبکہ کردوں کی خودمختاری کا حتمی فیصلہ مستقبل کی منتخب حکومت کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی قانون سازی میں خواتین کے لئے پچیس فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ تاہم اس مسودے کے لئے ابھی عراق کے امریکی منتظم پال بریمر کی منظوری ضروری ہے۔ انہوں نے پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مسودے کو اپنے ویٹو کے اختیار سے رد کردیں گے جس میں مذہب اسلام کو قانون سازی کا اصل ذریعہ سمجھا جائے گا۔ کونسل کے اراکین کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ یہ عبوری قانون محض چند ہدایات کا ذریعہ بن جائے جبکہ ان قوانین کی تفصیلات اور متنازعہ معاملات حتمی آئین تجویز کرنے والے طے کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ حتمی آئین منتخب شدہ حکومت طے کرے گی جوکہ شیعہ اکثریت کی خواہشات کے مطابق ہوگا۔ اس مسودے یوم عاشور کے بعد پر بدھ کے روز دستخط کئے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||